Urdu book · مطالعۂ حدیث

ایمان

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

ایمان کا ذائقہ امام مسلم بن الحجاج ( ۲۶۱ - ۲۰۶ھ) بلند پایہ محدث ہیں۔ الجامع الصحيح یا الصحیح المسلم ان کی مشہور کتاب ہے۔ اس کے "کتاب الایمان" میں ایک باب ان الفاظ کے تحت قائم کیا گیا ہے : باب الدليل على أن من رضى بالله رباً وبالاسلام ديناً وبمحمد رسولاً فهو مومن و ان ارتكب المعاصى الكبائر۔ اس باب کے ذیل میں انھوں نے یہ حدیث نقل کی ہے : عن العباس بن عبد المطلب انه سمع عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ذاق ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے طعم الايمان من رضى بالله ہوئے سنا۔ ایمان کا مزا چکھا اس شخص نے جو راضی رباً وبالاسلام ديناً وبمحمد ہو گیا اللہ کو رب بنانے پر اور اسلام کے دین رسولاً۔ ہونے پر اور محمد کے رسول ہونے پر۔ انسان کے اندر سب سے زیادہ طاقت ور جذبہ انا (ego) کا جذبہ ہے۔ آدمی قربانی دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے مگر وہ انا کی قربانی دینے پر راضی نہیں ہوتا۔ موجودہ زمانہ میں ہیومنزم کی صورت میں اس نے آخری فتنے کی صورت اختیار کر لی ہے۔ ہیومنزم کا مطلب ہے ۔ تقدیر کی نشست کا خدا کے بجائے انسان کی طرف منتقل ہو جانا۔ Transfer of seat from God to man. ایمان در اصل اسی انا کی قربانی کا نام ہے۔ مومن اپنی انا کو دفن کر کے خارجی حقیقت کا اعتراف کرتا ہے ۔ وہ اس کے لیے راضی ہوتا ہے کہ اس کے اپنے لیے عبد کی سیٹ ہو اور خدا کے لیے معبود کی سیٹ ۔ وہ خدا کے پیغمبر کو پیغمبر کا مقام دے اور خود اپنے لیے غیر پیغمبر کے مقام کو پسند کر لے۔ وہ صرف خدا کے دین کو دین کا درجہ دے اور خود دین وضع کرنے کے حق سے مکمل طور پر دست بردار ہو جائے۔ اس قسم کا ایک فیصلہ زبردست فکری انقلاب کے بعد ممکن ہوتا ہے۔ ایسا آدمی معرفت کا خصوصی ذائقہ چکتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو وہ اس خصوصی قربانی کے لیے بھی آمادہ نہ ہو سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page