Urdu book · مطالعۂ حدیث

اسلام

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

ارکانِ اسلام عن عبد الله بن عمر قال قال رسول الله عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ بنی الاسلام علی خمس۔ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمداً عبده اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور ورسوله وإقام الصلاة وايتاء الزكاة والحج یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ وصوم رمضان (متفق علیہ) اس حدیث کے مطابق، اسلام میں پانچ چیزیں ستون کی حیثیت رکھتی ہیں، جس طرح عمارت کچھ ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے، اسی طرح اسلامی زندگی پانچ بنیادی ارکان پر قائم ہوتی ہے۔ یہ پانچ ارکان دراصل پانچ اصول کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مومن وہ ہے جو اپنی زندگی کو ان پانچ اصولوں پر قائم کرے ۔ کلمہ شہادت کا مطلب خدا کی خدائی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کا اعتراف ہے۔ اس کلمہ کے ذریعہ ایک آدمی خدا کا اس کے تمام صفات کمال کے ساتھ اقرار کرتا ہے۔ وہ محمد عربی کی اس حیثیت کا اقرار کرتا ہے کہ خدا نے ان کو تمام انسانوں کا ابدی رہنما بنایا۔ یہ حقیقت جس کے دل میں اتر جائے وہ اس کی پوری نفسیات میں شامل ہو جاتی ہے۔ ایسے آدمی کا سینہ ہر سچائی کے اعتراف کے لیے کھل جاتا ہے۔ وہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جس کے لیے کوئی بھی چیز حق کے اعتراف میں رکاوٹ نہ بنے۔ نماز کی اصل تواضع ہے۔ جس آدمی کے اندر نماز کی حقیقت پیدا ہو جائے وہ گھمنڈ اور انانیت جیسی چیزوں سے یکسر خالی ہو جائے گا، اس کا رویہ ہر معاملہ میں تواضع کا رویہ بن جائے گا۔ زکاۃ کی حقیقت خدمت خلق ہے۔ جس آدمی کے اندرونی الواقع زکاۃ کی روح پیدا ہو جائے وہ تمام انسانوں کا خیر خواہ بن جائے گا، وہ ہر ایک کے لیے مفید بن کر زندگی گزارے گا۔ حج کی حقیقت اتحاد ہے۔ جو آدمی سچے جذبے کے ساتھ حج کے مراسم ادا کرلے اس کے اندر اختلاف کا مزاج ختم ہو جائے گا۔ وہ اتحاد و اتفاق کے ساتھ لوگوں کے درمیان رہنے لگے گا۔ روزہ کی حقیقت صبر ہے۔ جو آدمی سچا روزہ دار ہو، وہ اسی کے ساتھ لازماً صبر دار بھی ہوگا۔ اس کے اندر یہ عمومی مزاج پیدا ہو جائے گا کہ وہ ناگواریوں کو برداشت کرتے ہوئے لوگوں کے درمیان زندگی گزارے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page