Urdu book · مطالعۂ حدیث

اسلام

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

نتیجہ نہ کہ ہدف کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک چیز بظاہر صحیح ہوتی ہے مگر سیاق کے بدلنے سے وہ غلط ہو جاتی ہے مثلاً ایک چیز جو کسی عمل کا نتیجہ ہو اس کو آپ اپنے عمل کا ہدف بنالیں تو یہ غلط بھی ہوگا اور اپنے انجام کے اعتبار سے لاحاصل بھی۔ قرآن مجید کی سورہ ۹۴ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے تمھارا آوازہ بلند کیا (ورفعنا لك ذكرك) اس سے مراد وہ غیرمعمولی شہرت و عزت ہے جو پیغمبر اسلام کو دنیا میں حاصل ہوئی۔ آپ کا رفع ذکر ساری دنیا میں اتنا مسلم ہو چکا ہے کہ آج ایک غیر مسلم جب ساری تاریخ انسانی کے ایک سو بڑوں کی فہرست بناتا ہے تو اس میں وہ آپ کا نام سب سے پہلے درج کرتا ہے۔ مگر اپنا آوازہ بلند کرنا آپ کا ہدف نہیں تھا بلکہ آپ کے اصل مشن کا ایک نتیجہ تھا۔ اس سلسلے میں ایک حدیث یہاں نقل کی جاتی ہے : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتانی جبریل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبریل میرے پاس فقال ان ربی وربك يقول كيف رفعت ذكرك۔ آئے اور کہا کہ میرا رب اور آپ کا رب پوچھتا ہے کہ میں قال الله اعلم، قال اذا ذكرت ذکرت معی۔ نے کیسے تمھارا نام بلند کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ بہتر (تفسیر ابن کثیر) جانتا ہے۔ جبریل نے کہا کہ اللہ فرماتا ہے کہ اس طرح کہ جب میرا نام لیا جائے تو تمھارا نام بھی لیا جائے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ آپ کا نام کیسے بلند ہوا یا کیسے بلند ہوگا۔ یہ جو کچھ ہوا یہ سراسر آپ کی کوشش اور آپ کی خواہش کے بغیر ہوا۔ اس مثال سے ہدف اور نتیجہ کا فرق سمجھ میں آتا ہے۔ دعوت آپ کا ہدف تھا اور رفع ذکر اس کا نتیجہ اب اگر کوئی شخص ایسا کرے کہ وہ ” رفع ذکر “ کو ہدف (پیغمبر کا مشن) سمجھ لے اور اپنا نام بلند کرنے کی کوشش کرنے لگے تو یہ بالکل غلط ہوگا۔ یہ پیغمبر کی سنت کی خلاف ورزی ہوگی نہ کہ اس کی پیروی۔ یہی معاملہ دنیوی اقتدار کا ہے۔ اقتدار خدا کا ایک انعام ہے جو دعوتی عمل کے نتیجہ میں خدا کی طرف سے کسی گروہ کو دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی گروہ ایسا کرے کہ دنیوی اقتدار کے حصول کو نبوت کا ہدف قرار دے کر هنگامه آرائی شروع کر دے تو یہ بھی سراسر غلط ہوگا۔ یہ اسی طرح نتیجہ کو ہدف کا مقام دینے کے ہم معنی ہو گا جس طرح دہ رفع ذکر کی مذکورہ بالامثال میں نظر آتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page