اسلام
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
اعتصام بحبل الله قرآن (آل عمران ۱۰۳) میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے ــــ اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور متفرق نہ ہو ۔ اور اللہ کا یہ انعام اپنے اوپر یاد رکھو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی۔ پس تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے (واعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا واذكروا نعمة الله عليكم اذ كنتم اعداء فالف بين قلوبكم فاصبحتم بنعمته اخوانا) اس آیت میں اللہ کی رسی سے مراد اللہ کی کتاب قرآن ہے۔ اور تفرق کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ اپنے اپنے ذاتی مفاد کو لے کر متفرق نہ ہو جاؤ اور اللہ کے دین میں سب بھائی بھائی بن کر رہو (ويجوز ان يكون معنا ه ولا تفرقوا متابعين للهوى والاغراض المختلفة، و كونوا في دين الله اخوانا) تفسیر القرطبی ٤/ ١٥٩ زندگی کے دو طریقے ہیں ـــــــ متابعت قرآن، متابعت ھوٹی ۔ جو لوگ سچے مومن ہوں اور پوری سنجیدگی کے ساتھ قرآن کا اتباع کرنا چاہتے ہوں ان کی ساری توجہ خدائی احکام کی طرف لگ جائے گی۔ ان کا تقویٰ ان کے اندر یہ شدید جذبہ پیدا کرے گا کہ وہ بے لاگ طور پر خدا کی مرضی کو جانیں اور پوری طرح اس پر قائم ہو جائیں۔ اس کے برعکس جن لوگوں کی دلچسپی کا مرکز ان کی خواہشیں اور ان کے اغراض ہوں وہ کبھی یکساں ذہن کے تحت نہیں سوچ سکتے۔ ان میں سے ہر ایک اپنی خواہش اور اپنے مفاد کی طرف دوڑے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان میں سے ہر ایک کی راہ دوسرے سے الگ ہو جائے گی۔ جو لوگ سچائی کے ساتھ خدا کی کتاب کو اپنا رہنما بنائیں ان کے اندر لازمی طور پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader