Urdu book · مطالعۂ حدیث

عبادات

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

وضو کی برکت حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے وضو کیا۔ پھر بہتر طریقہ پر وضو کیا، اس سے اس کی خطائیں جاتی رہتی ہیں، حتی کہ ناخن کے نیچے کی بھی (من توضأ فأحسن الوضوء خرجت خطایاہ حتی تخرج من تحت اظفاره، رواہ مسلم) بہتر وضو سے کیا مراد ہے، اس کی وضاحت دوسری روایتوں سے ہوتی ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے، پھر وہ اس کو پوری طرح کرے۔ اس کے بعد وہ کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے (ما منکم من احد يتوضأ فيبلغ الوضوء ثم قال : اشهد ان لا إله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله الا فتحت له ابواب الجنة الثمانية يدخل من أيها شاء، رواہ مسلم) اسی طرح حدیث میں ہے کہ کوئی شخص جب وضو کرے تو اس کے بعد یہ دعا پڑھے کہ خدایا مجھ کو توبہ کرنے والوں میں سے بنا، اور مجھ کو پاک صاف لوگوں میں سے بنا (اللهم اجعلنى من التوابين واجعلنى من المتطهرين، الترمذی) ایک اور روایت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اس کے بعد آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ خدایا مجھے خطاؤں سے پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا دھوکرمیل سے پاک کر دیا جاتا ہے (اللهم نقني من الخطايا كما ينقى الثوب الابيض من الدنس) مختلف روایتوں میں یہ بات مختلف انداز سے بتائی گئی ہے کہ وضو سے آدمی کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ وضو اس کے گناہوں کے میل کو دھو تا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page