Urdu book · مطالعۂ حدیث

عبادات

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

دیر پا عمل ایک روایت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری(کتاب الرقاق، باب القصد والمداومة علی العمل) کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : ان احب الاعمال الی اللہ ادومھا و ان قل (اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو دیر پا ہو، اگر چہ وہ کم ہو) فتح الباری ۳۰۰؍۱۱ اس قول رسول کا ایک تعلق عبادات سے ہے۔ مثلاً نفل نماز یا نفل روزہ میں آدمی کو ایسی مقدار کو اپنا معمول بنانا چاہئے جس کو وہ ہمیشہ جاری رکھ سکتا ہو۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ تھوڑے دن تو بہت زیادہ نوافل کا اہتمام کرے اور اس کے بعد وہ کم پر بھی قائم نہ رہے۔ یہ ایک مستقل اصول حیات ہے۔ اور اس کا تعلق زندگی کے ہر پہلو سے ہے، دوسرے لفظوں میں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کام بھی شروع کرو اس کو ایسی صورت میں شروع کرو جو برابر جاری رہنے والی (sustainable) ہو۔ یہ منصوبہ بند عمل کا اہم ترین اصول ہے۔ اس دنیا میں ہر بڑا نتیجہ منصوبہ بند عمل کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ اور نتیجہ خیز منصوبہ وہی ہے جو شروع کرنے کے بعد دیر تک جاری رہ سکے۔ اس دنیا میں کسی عمل کا نتیجہ ہمیشہ دیر میں نکلتا ہے۔ تھوڑے وقت میں کوئی بڑا نتیجہ پالینا موجودہ دنیا کے نظام میں سرے سے ممکن ہی نہیں۔ ایسی حالت میں نتیجہ خیز عمل وہی ہوسکتا ہے جو دیر پا عمل ہو۔ جو عمل دیر تک جاری نہ رہے اس کے متعلق پیشگی طور پر جان لینا چاہئے کہ وہ اس دنیا میں بے نتیجہ ہو کر رہ جائے گا۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ جو کام شروع کرے اس کو مستقل مزاجی کے ساتھ مسلسل جاری رکھے۔ اور جس عمل کو مسلسل جاری رکھنا اس کے لئے ممکن نہ ہو اس کو وہ شروع ہی نہ کرے۔ کیوں کہ ایسے آغاز کا کوئی انجام اس دنیا میں ہرگز نکلنے والا نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page