Urdu book · مطالعۂ حدیث

عبادات

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

نماز ذریعہ علاج كان فتى من الانصار يصلى مع النبی انصار کا ایک نوجوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلى الله عليه وسلم ولا يدع شيئا کے ساتھ نماز پڑھتا تھا۔ مگر اسی کے ساتھ وہ من الفواحش والسرقة الا ركبه۔ فواحش اور سرقہ کا بھی ارتکاب کرتا تھا۔ اس کا فذكر للنبی صلى الله عليه وسلم فقال : ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا۔ آپ ان الصلاة ستنهاه۔ فلم يلبث ان نے فرمایا کہ نماز عنقریب اس کو ان چیزوں سے تاب وصلحت حاله - فقال رسول الله روک دے گی۔ آخر کار اس نے توبہ کر لی اور صلى الله عليه وسلم : الم اقول لكم اس کا حال درست ہو گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ (الجامع لاحکام القرآن ۱۳ / ۴۸۰- ۴۸۴) صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا۔ نماز اگر واقعی شعور کے ساتھ پڑھی جائے تو وہ آدمی کے اندر حساسیت کو جگانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ جب آدمی کے اندر دینی حساسیت جاگ اٹھتی ہے تو اس کے بعد وہ اپنے آپ اصلاح کے راستہ کو اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے بعد نماز اس کے لیے صرف ایک روایتی عمل نہیں رہتی، بلکہ وہ اس کے اوپر نگر ماں بن جاتی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : (ان الصلاۃ تنھی عن الفحشاء والمنكر (نماز آدمی کو فحش اور بری باتوں سے روکتی ہے) مذکورہ نوجوان پہلے بے شعوری کی نماز پڑھتا تھا۔ دھیرے دھیرے اس کا ذہن بدلا۔ وہ چونکہ عربی جانتا تھا، اس لیے قرآن کی قرآت اور نماز کی دوسری دعائیں اور اذکار اس کے ذہن پر اثر ڈالتے رہے۔ مسجد میں اہل ایمان سے ملاقات اور گفتگو اس کو نئی سوچ کی طرف بڑھاتی رہی۔ اس طرح کی مختلف چیزیں مسلسل اس کے اوپر اثر انداز ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ بے روح نمازی سے اوپر اٹھ کر وہ سچا نمازی بن گیا۔ ہر شکل کے ساتھ ایک اپرٹ ہوتی ہے۔ کوئی آدمی اگر شکل کو پوری طرح اختیار کر لے تو اپرٹ بھی دھیرے دھیرے اس کے اندر پیدا ہو جائے گی ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page