عبادات
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
نماز حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی اور کفر کے درمیان ترک صلاۃ ہے۔ (بین الرجل والکفر ترک الصلاۃ) حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ نماز دین کا کھمبا ہے۔ (الصلاۃ عماد الدین) نماز " اللہ اکبر " کے قول سے شروع ہوتی ہے اور " السلام علیکم ورحمۃ اللہ" کے قول پر ختم ہوتی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے : تحریمہا التکبیر وتحليلها التسليم ۔ نماز کی ابتدائی تیاری وضو سے شروع ہوتی ہے۔ وضو کے بارہ میں حدیث میں آیا ہے کہ اس شخص کی نماز نہیں جس کا وضو نہ ہو اور اس کا وضو نہیں جس نے اس پر اللہ کے نام کو یاد نہ کیا (لا صلاۃ لمن لا وضوء لہ ولا وضوء لمن لم يذكر اسم اللہ علیہ) وضو حقیقۃً ایک قسم کی عملی دعا ہے۔ آدمی اپنے جسم کے کچھ نمائندہ حصوں کو دھوکر اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتا ہے کہ اسی طرح تو اپنی رحمت کے پانی سے میرے پورے وجود کو پاک کر دے ، تو میرا تزکیہ کر کے مجھے جنت میں داخل کر دے ۔ مؤذن جب اذان کے کلمات کہتا ہے تو اس کے بارہ میں حکم ہے کہ تمام نمازی اس کو سن کر اسی طرح اپنی زبان سے دہرائیں ۔ یہ دہرانا در حقیقت مؤذن کی پکار پر لبیک کہنا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اس دینی عمل کے لیے پوری طرح تیار ہے جس کی طرف اس کو بلايا گیا ہے۔ اس کے بعد آدمی اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے) کہہ کر نماز میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ اس حقیقت واقعہ کا اعتراف ہے کہ اس دنیا میں بڑائی صرف ایک خدا کے لیے ہے۔ پھر آدمی ادب سے کھڑا ہوتا ہے ، وہ جھکتا ہے اور زمین پر اپنا سر رکھ دیتا ہے۔ یہ اس بات کا عملی اقرار ہے کہ خدا بڑا ہے ، میں چھوٹا ہوں ۔ میں آخری حد تک ، اس کی اطاعت کرنے کے لیے تیار ہوں ۔ آخر میں نمازی اپنے دائیں اور بائیں چہرہ پھیر کر کہتا ہے کہ اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ اس طرح گویا وہ زمین پر بسنے والے تمام لوگوں کے لیے سلامتی اور خیر خواہی کے جذبہ کا اظہار کرتا ہے ۔ خدا کو گواہ بن کر وہ عہد کرتا ہے کہ وہ دنیا میں اس طرح رہے گا کہ اس کی وجہ سے کسی کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو ، ہر ایک کی جان اور مال اور آبرو ، ہر چیز اس سے محفوظ اور مامون رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader