عبادات
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
عالی شان مسجدیں سنن ابی داؤد (کتاب الصلوة، باب فی بناء المساجد) میں عبداللہ بن عباس کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: ”قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما امرت بتشئيد المساجد “ قال ابن عباس لتزخر فنها كما زخرفت اليهود والنصاریٰ۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ مجھے بلند و بالا مسجدیں بنانے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ (یہ حدیث بیان کرنے کے بعد) عبداللہ ابن عباس نے کہا کہ تم لوگ ضرور مسجدوں کو مزین کرو گے جس طرح یہود اور نصاریٰ نے اپنی عبادت گاہوں کو مزین کیا۔ ایک اور روایت میں ایک صحابی کہتے ہیں کہ ہم کو بلند و بالا مسجدیں بنانے سے منع کیا گیا ہے۔ (نهينا عن تشئيد المساجد) یہ پیشین گوئی موجودہ زمانہ میں ایک واقعہ بن چکی ہے۔ اور ہر ملک میں اس کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔ جہاں بھی کچھ مسلمان آباد ہیں وہاں عالی شان مسجدیں بنائی جا رہی ہیں۔ کہیں قصر نما، کہیں قلعہ نما، اور کہیں تاج محل نما۔ شاندار مساجد تعمیر کرنے کا یہ کام امریکا اور یورپ میں مزید اضافہ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ کیوں کہ اس سلسلہ میں وہاں زیادہ بہتر تکنیکی سہولتیں حاصل ہیں۔ یہاں یہ سوال ہے کہ عالیستان مسجدیں بنانے کو اسلام میں کیوں ناپسند کیا گیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسجدوں کی عالیشان تعمیرات امت کے روحانی زوال کی علامت ہیں۔ کیوں کہ جب روح (اسپرٹ) ختم ہوتی ہے تو اس کی تلافی کے لیے مظاہر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ عالیشان مسجدوں کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ نمود و نمائش والی دینداری کی علامت ہیں۔ شاندار عمارتوں میں نمود و نمائش کے جذبہ کو بے حد تسکین ملتی ہے۔ وہ شکست خوردہ نفسیات کے لئے عظمت و فخر کی تسکین کا سامان ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی عام نفسیات یہ ہے کہ انہوں نے پولیٹکل گلوری کو کھو دیا ہے۔ ایسی حالت میں درود دیوار کی عظمت انہیں یہ فرضی تسکین دیتی ہے کہ اب بھی انہوں نے زمین پر اپنی عظمت کا نشان قائم کر رکھا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader