Urdu book · مطالعۂ حدیث

عبادات

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

تقویٰ کا مرکز بدرالدین محمد بن بہادر الزرکشی (م ۹۴۷ھ) قاہرہ میں پیدا ہوئے اور وہیں وفات پائی۔ انھوں نے اپنی کتاب اعلام المساجد سے متعلق بہت سی روایتیں نقل کی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے : قال ابو الدرداء لامرئہ۔ یا بنی، لیکن ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اے المسجد بيتك۔ فانى سمعت رسول الله میرے بیٹے مسجد کو اپنا گھر بناؤ۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم يقول: المساجــــــــــد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ مسجدیں بيوت المتقين۔ فمن يكن المسجد بيته متقیوں کا گھر ہیں۔ پس مسجد جس کے لئے گھر ہو جائے يضمن الله له الروح والرحمة والجواز اللہ اس کو رحمت اور مہربانی کی ضمانت دیدیتا على الصراط الى الجنة۔ ہے اور اس کو جنت کے راستہ کا پروانہ عطا فرماتا ہے۔ اس حدیث میں بیت کا لفظ سادہ طور پر گھر کے معنی میں نہیں ہے۔ یہ دراصل اس معنی میں ہے کہ جس معنی میں آجکل مرکز کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد تقویٰ کی تربیت کا مرکز ہے۔ مسجد کسی بستی کا وہ مقام ہے جہاں اجتماعی طور پر لوگوں کو متقیانہ زندگی کا سبق دیا جاتا ہے۔ ایک مومن کو اس دنیا میں جو دین دارانہ زندگی گزارنا ہے، اس کا مکمل نمونہ نماز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی لئے حضرت عمر فاروق نے فرمایا کہ نماز دین کا کھمبا ہے۔ جس نے اس کو قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا، اور جس نے اس کو ڈھا دیا اس نے دین کو ڈھا دیا (الصلوة عماد الدين، فمن اقامها اقام الدين ومن هدمها هدم الدين) مسجد سے روزانہ اللہ اکبر کی آواز سنائی جاتی ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انسان چھوٹا ہے اور خدا بڑا۔ مسجد میں داخل ہو کر آدمی وضو کرتا ہے، یہ اس بات کا سبق ہے کہ آدمی کو ہمیشہ پاک صاف رہنا چاہئے۔ مسجد میں آدمی رکوع اور سجدہ کرتا ہے، یہ اس بات کی تعلیم ہے کہ دنیا میں تواضع کے ساتھ رہو۔ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کی جاتی ہے، یہ اس بات کی تربیت ہے کہ اجتماعیت کے ساتھ زندگی گزارو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page