Urdu book · مطالعۂ حدیث

عبادات

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

سجدہ قربت قرآن کی سورہ نمبر ۹۶ میں ارشاد ہوا ہے: واسجد واقترب (العلق (۱۹) یعنی تم سجدہ کرو اور اللہ کے قریب ہو جاؤ۔ اس آیت کی وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أقرب ما يكون العبد من ربه و أحبه اليه ما كانت جبهته فى الأرض ساحدا لله (مسلم كتاب الصلاة، النسائى كتاب المواقيت، الترمذی كتاب الدعوات، مسند احمد) یعنی بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اور سب سے زیادہ محبوب اس وقت ہوتا ہے جب کہ اس کی پیشانی زمین پر ہو، اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہوئے۔ سجدہ کیا ہے۔ سجدہ آدمی کی داخلی حالت کا ایک خارجی اظہار ہے۔ سجدہ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی کے دل میں اپنے رب کی عظمت کا شدید احساس طاری ہوا۔ وہ اللہ کے کمال قدرت کے مقابلہ میں اپنے کمال عجز کو سوچ کر تڑپ اٹھا۔ اس کی یہ داخلی کیفیت جسمانی اعتبار سے اس حالت میں ڈھل گئی کہ وہ سجدہ کرتے ہوئے زمین پر گر پڑا جو کہ سرگفندگی کی آخری اور انتہائی صورت ہے۔ سجدہ عجز انسانی کی تصویر ہے۔ سجدہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنے آپ کو آخری حد تک اللہ کے آگے ڈال دیا۔ اس نے اپنے پورے وجود کو اللہ کے حوالہ کر دیا۔ اس نے اپنے عجز اور اللہ کی قدرت کا آخری حد تک اعتراف کر لیا۔ جب کوئی انسان اپنے آپ کو ابدیت کے اس درجہ تک پہنچادے تو اس کے بعد بندہ اور خدا کے درمیان کوئی فاصلہ باقی نہیں رہتا۔ اس کے بعد اللہ اس کا ہو جاتا ہے اور وہ اللہ کا۔ سجدہ کا یہ فائدہ اس کے ظاہر کی بنا پر نہیں ہے بلکہ ساحجد کی داخلی کیفیت کی بنا پر ہے۔ سجدہ کی ظاہری صورت کی حیثیت علامت کی ہے۔ سجدہ ایک بامعنی ربانی عمل ہے۔ حقیقی سجدہ وہ ہے جب کہ آدمی کے جسم کے ساتھ اس کا دل، اس کی روح اور اس کا دماغ بھی اللہ کے آگے گر پڑا ہو۔ سر کو جھکانے کے ساتھ اس نے اپنے پورے وجود کو اللہ کے آگے جھکا دیا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page