اخلاق
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
ماں باپ کے ساتھ سلوک عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال : سألتُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ای العمل احب الی اللہ قال الصلاۃ علی وقتھا ۔ قلت ثم ای ، قال بر الوالدین ۔ قلت ثم ای ، قال الجھاد فی سبیل اللہ ( رواہ البخاری و مسلم ) عن عبد اللہ بن عمر و بن العاص ان رجلاً جاء الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال : جئت ابایعک علی الھجرۃ و ترکت ابوی یبکیان - قال ارجع الیھما فاحضکھما کما ابکیتھما ( رواہ ابو داؤد ) عن انس رضی اللہ عنہ قال : اتی رجل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال اشتھی الجھاد ولا اقدر علیہ - قال ھل بقی من والدیک احد - قال امی ۔ قال قابل اللہ فی برھا فاذا فعلت فانت حاج و معتمر ومجاھد ( رواہ ابو یعلی و الطبرانی ) عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: جاء رجل الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال یار سول اللہ من احق بحسن صحابتی قال امك - قال ثم من قال امك - قال ثم من قال امك قال ثم من قال ابوگ ( رواہ البخاری و مسلم ) عن عبد اللہ بن عمر و بن العاص قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رضا اللہ فی رضا الوالد و سخط اللہ فی سخط الوالد ( رواہ الترمذی ) الجنۃ تحت اقدام الامھات (الجامع الصغیر للسیوطی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل کون سا ہے۔ فرمایا وقت پر نماز پڑھنا۔ پوچھا اس کے بعد۔ فرمایا ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک ۔ پوچھا اس کے بعد ۔ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ ہجرت پر بیعت کروں اور میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ہے۔ آپ نے فرمایا اپنے ماں باپ کی طرف واپس جاؤ اور ان کو ہنساؤ جس طرح تم نے ان کو رلایا ہے۔ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں جہاد کی خواہش رکھتا ہوں مگر مجھے اس پر قدرت نہیں ۔ آپ نے فرمایا کیا تمھارے والدین میں سے کوئی ہے۔ اس نے کہا میری ماں ہے ۔ آپ نے فرمایا ماں کے ساتھ حسن سلوک میں خدا کو پانے کی کوشش کرو جب تم ایسا کروگے تو تم حاجی ہو، تم عمرہ کرنے والے ہو، تم مجاہد ہو۔ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ میری حسن صحبت کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے ۔ آپ نے فرمایا تمھاری ماں ۔ پوچھا پھر کون آپ نے فرمایا تمھاری ماں ۔ پوچھا پھر کون ۔ فرمایا تمھاری ماں ۔ پوچھا پھر کون آپ نے فرمایا تمھارا باپ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی رضا مندی باپ کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے ۔ رسول اللہ نے فرمایا : جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader