Urdu book · مطالعۂ حدیث

اخلاق

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

روایات میں آتا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک روز کعبہ کی طرف دیکھا اور پھر کہا : تو کیسا عظمت والا ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے۔ مگر مومن کی حرمت اللہ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ ہے (ما اعظمك واعظم حرمتك وللمومن اعظم حرمة عند الله منك ، مختصر تفسیر ابن کثیر ، جلد ثالث ، صفحہ ۳۶۶) یہ بات جو حضرت عبداللہ بن عمر نے کہی یہ دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ہے جس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔ اسی کو صحابی رسول نے اپنی زبان میں دہرایا۔ کعبہ ایک خاموش یادگار ہے۔ اس سے کسی آدمی کے وہ معاملات نہیں پڑتے جو زندہ انسانوں سے پڑتے ہیں۔ اس لئے کعبہ کا احترام کرنے کے لئے آدمی آسانی سے راضی ہو جاتا ہے ۔ اور انسان کا احترام کرنے پر راضی نہیں ہوتا۔ مگر انسان کے تقویٰ کا اصل امتحان کعبہ کی سطح پر نہیں بلکہ انسان کی سطح پر ہو رہا ہے۔ جب ایک شخص کے دل میں اپنے بھائی کے خلاف ایک برا گمان گزرتا ہے مگر وہ محض گمان کی بنیاد پر اس کے بارے میں نہیں بولتا ۔ حتیٰ کہ وسعت ظرف سے کام لیتے ہوئے وہ اس کی تحقیق سے بھی بچتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی کی جو بات اللہ نے چھپا رکھی ہے وہ اس کو چھپایا ہی رہنے دے تو وہ ایک ایسے عمل کا ثبوت دیتا ہے جو کسی مقدس دیوار کا احترام کرنے سے بھی زیادہ بڑا عمل ہے۔ جب اس کو کسی کے اوپر غصہ آتا ہے مگر اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو اس سے روکتا ہے کہ وہ اُس کی عزت پر حملہ کرنے لگے ، وہ اس کو نقصان پہنچانے کی تدبیریں کرے تو وہ ایک ایسا عمل کرتا ہے جو مقدس یادگاروں کا ادب کرنے سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ جب ایک آدمی دیکھتا ہے کہ اس کا بھائی کسی پہلو سے ترقی کر گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ اس سے حسد نہیں کرتا ، وہ اس کا برا نہیں چاہتا تو یہ خدا کے نزدیک اتنا بڑا عمل ہوتا ہے جو اس کے لئے کعبہ کے احترام سے بھی زیادہ بڑے اجر کا باعث بن جاتا ہے۔ دنیا میں ہر آدمی ایک درمیانی مقام پر کھڑا ہوا ہے۔ ایک طرف اس کا خدا ہے جس سے وہ آخرت میں ملنے والا ہے ۔ دوسری طرف وہ انسان ہیں جن کے درمیان وہ آج اپنے آپ کو پاتا ہے ۔ آدمی کو دوسرے انسانوں کے ساتھ وہی سلوک کرنا ہے جو وہ خدا سے اپنے بارے میں چاہتا ہے۔ اگر آدمی چاہتا ہے کہ خدا اس کے بھیدوں کو کھول کر قیامت میں اس کو رسوا نہ کرے تو اس کو دنیا میں یہ کرنا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے بھید کے پیچھے نہ پڑے ۔ وہ اگر خدا کے بندوں کے بھید کو چھپائے گا تو خدا بھی اس کے بھید کو چھپالے گا۔ اور اگر اس نے دوسروں کو رسوا کیا تو خدا اس کو یہ سزا دے گا کہ قیامت کے دن اس کو رسوا کر کے اپنی رحمتوں سے اسے دور کر دے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے کی عزت بچانا اپنی عزت بچانا ہے ، دوسرے کے اوپر دار کرنا خود اپنے اوپر وار کرنا ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس راز کو جانتے ہوں اور اس سے بھی کم وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو اس پر عمل کرنے کے لئے راضی کر سکیں ۔ سب سے بڑا عمل وہ ہے جس کے لئے آدمی کو اپنے نفس سے لڑنا پڑے ، جس کے لئے مصلحتوں کے نقصان کو برداشت کرنا ہو ، جس کی قیمت یہ دینی پڑے کہ آدمی کی عزت و مقبولیت خطرہ میں پڑ جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page