اخلاق
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
پڑوسی کا حق قرآن وحدیث میں پڑوسی کا بہت حق بتایا گیا ہے۔ امام بخاری نے ابو رافع رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث نقل کی ہے ۔ اس کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پڑوسی قریب ہونے کی وجہ سے شفعہ کا زیادہ حق دار ہے (الجار احق بسقبه) مشکوۃ المصابیح ۸۹۳/۲ حضرت ابو رافع کے واقعات کے ذیل میں بتایا گیا ہے کہ مدینہ میں ان کے دو مکانات تھے۔ ان میں سے ایک مکان وہ فروخت کرنا چاہتے تھے ۔ ایک شخص نے اس مکان کو پانچ سودینار نقد دے کر خریدنا چاہا مگر ساتھ ہی اس مکان کے ایک اور خواہشمند تھے اور وہ حضرت سعد بن وقاص تھے جو حضرت ابو رافع کے پڑوسی تھے۔ انھوں نے اپنے مکان کو حضرت سعد کے ہاتھ فروخت کردیا اگر چہ اپنی پیش کش کے مطابق، انھوں نے صرف چار سو دینار ادا کیے اور وہ بھی قسطوں میں ۔ اس موقع پر حضرت ابو رافع نے کہا کہ پڑوسی ہونے کے اعتبار سے سعد بن وقاص اس مکان کے زیادہ حق دار ہیں۔ پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک ایک بہت بڑا دینی عمل ہے۔ آدمی کو اس عمل کا بہترین بدلہ آخرت میں ملے گا۔ تاہم دنیا کے اعتبار سے بھی اس اسلامی تعلیم کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ اس میں دنیوی حکمت کے بے شمار پہلو چھپے ہوئے ہیں۔ ایک شخص جو آپ کے پڑوس میں ہے وہ آپ کا صبح و شام کا ساتھی ہے۔ اس سے بار بار سابقہ پیش آتا ہے ۔ ایسی حالت میں آپ کا پڑوسی اگر آپ سے ناراض ہو تو وہ بے شمار طریقوں سے آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر وہ آپ کے معاملات میں غیر جانب دار ہو جائے تب بھی اس کی غیر جانبداری آپ کے لیے سخت مضر ثابت ہوگی۔ آپ کے حسن سلوک نے اگر آپ کے پڑوسی کو آپ کا دوست ، بنا رکھا ہو ۔ آپ کے احسانات کی بنا پر اس کی فطرت یہ کہہ رہی ہو کہ مجھے بھی احسان کا بدلہ احسان سے دینا چاہیے، تو ایسا پڑوسی آپ کے لیے تمام قیمتی چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے ۔ آپ اس کو جتنا فائدہ پہنچائیں گے اس سے کہیں زیادہ فائدہ آپ کو اس کی طرف سے ملے گا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader