اخلاق
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
فقہ فی الدین اسلام میں تفقه فی الدین کی بے حد اہمیت ہے۔ قرآن میں اس کا ذکر فرض کفایہ کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ اگر امت کے تمام لوگ نہیں تو کچھ لوگوں کو ایسا کرنا چاہئے کہ وہ اپنے اندر اعلیٰ درجہ میں تفقه فی الدین کی صلاحیت پیدا کریں (التوبہ (۱۲۲) حدیث سے بھی اس کی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔ حضرت معاویہ بن سفیان کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين (فتح الباری ۱۳/ ۳۰۶) یعنی اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو وہ تفقه فی الدین عطا کر دیتا ہے۔ فقہ کے معنی فہم و بصیرت کے ہیں۔ یہاں تفقه کا لفظ معروف فقہی معنی میں نہیں ہے۔ موجودہ زمانہ میں فقہ کا لفظ بولا جائے تو اس کا مطلب ان احکام و مسائل کو جاننا ہوتا ہے جن کو فقہاء اسلام نے بعد کے زمانہ میں مرتب کیا۔ مگر مذکورہ آیت یا حدیث میں تفقه کا لفظ اس مفہوم میں استعمال نہیں ہوا ہے۔ بلکہ وہ اصولی اور اساسی دین میں گہری فہم و بصیرت کے لئے آیا ہے۔ اس اعتبار سے، تفقه کا مطلب معروف نوعیت کا مقلدانہ علم نہیں ہے۔ بلکہ وہ سراسر ایک مجتہدانہ علم ہے۔ تفقه فی الدین کا مطلب سطور سے گذر کر بین السطور کو پڑھ لینا ہے۔ الفاظ سے نکلنے والے سادہ مفہوم سے گذر کر اس کی چھپی ہوئی معنویت کو دریافت کرنا ہے۔ فنی اور ظاہری تفصیلات سے آگے بڑھ کر معنویت کے سمندر میں داخل ہو جاتا ہے۔ تفقه فی الدین بلاشبہ ایک مومن کے لئے خیر اعلیٰ کا درجہ رکھتا ہے۔ جس آدمی کے اندر تفقه کی صلاحیت پیدا ہو جائے اس کا ایمان اس کے اندر ربانی شخصیت کی تشکیل کرنے لگتا ہے۔ وہ حقیقتوں کو براہ راست دیکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ وہ واقعات و معاملات کو ان کی صحیح روشنی میں دیکھنے لگتا ہے۔ خواہ اپنی ذات کا معاملہ ہو یا دوسروں کا معاملہ، وہ صحیح ترین رائے تک پہنچنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خصلتان لا تجتمعان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader