Urdu book · مطالعۂ حدیث

اخلاق

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

فی منافق حسن سمت ولا فقہ فی الدین (الترمذی بحوالہ مشکاة المصابیح ۲۶/۱) دو صفتیں ایسی ہیں جو کسی منافق میں جمع نہیں ہوتیں — خوش خلقی اور فقہ فی الدین۔ منافقت کے ساتھ تفقه فی الدین کیوں جمع نہیں ہوتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ منافق ایک غیر سنجیدہ انسان ہوتا ہے، اور غیر سنجیدہ ذہن اس قابل ہی نہیں ہوتا کہ وہ گہری حقیقتوں کو سمجھے یا ان کا ادراک کر سکے۔ گہری بصیرت کے لئے سنجیدگی (sincerity) ایک لازمی شرط ہے۔ منافقت کے ساتھ سنجیدگی کبھی جمع نہیں ہوتی۔ اس لئے منافق انسان کبھی فقہ فی الدین کی لذت سے آشنا بھی نہیں ہوتا۔ فقہ فی الدین کا درجہ اس کے حصہ میں آتا ہے جو اپنے ذہن کو دوسری غیر متعلق چیزوں سے ہٹا کر صرف دین کو اپنے غور و فکر کا موضوع بنائے۔ یہ ذہنی یکسوئی (concentration) ہی فقہ فی الدین کا دروازہ ہے۔ جو لوگ ذہنی یکسوئی کی یہ قیمت ادا نہ کریں وہ کبھی اس خیر کو نہیں پا سکتے جس کو قرآن و حدیث میں تفقه فی الدین کہا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فقیہ واحد اشد علی شیطان من الف عابد (الترمذی، ابن ماجہ، بحوالہ مشکواة المصابیح ۱/ ۳۷) یعنی ایک فقیہ شیطان کے اوپر ہزار عابد سے زیادہ سخت ہے۔ غیر فقیہ صرف چیزوں کے ظاہر کو دیکھتا ہے۔ اس کے برعکس فقیہ کی نظر چیزوں کی اصل حقیقت تک پہنچ جاتی ہے۔ غیر فقیہ چیزوں کے فرق کو نہیں سمجھتا جب کہ فقیہ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جان لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر فقیہ نہایت آسانی سے شیطان کی تزئین کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب کہ فقیہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ شیطانی تزئین کا پردہ پھاڑ کر حقیقت کو اس کے برہنہ روپ میں دیکھ سکے۔ اور اس طرح اس کی گمراہی سے بچ جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page