اخلاق
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
اور احتیاطی مراحل سے گزرنے کے بعد بھی اگر اس کا ضمیر مطمئن ہو کہ اس معاملہ میں اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بولے اور اپنے اس قول کی بنا پر وہ اللہ کے یہاں پکڑا نہیں جائے گا تو اس کے بعد وہ بول سکتا ہے۔ اگرچہ پھر بھی مذکورہ اندیشہ بدستور باقی رہے گا۔ کیونکہ موجودہ دنیا میں مومن کی ذمہ داری نصیحت اور تبلیغ ہے نہ کہ دوسروں کے بارے میں کافر اور فاسق اور مرتد اور بت پرست ہونے کا اعلان کرنا۔ آسٹریلیا کا ایک قدیم ہتھیار ہے جو بومرینگ (Boomerang) کہا جاتا ہے۔ اس کی صفت یہ ہے کہ پھینکنے کے بعد اگر وہ نشانہ پر نہ لگے تو وہ خود پھینکنے والے کی طرف لوٹ آئے گا۔ اسی سے بومرینگ افیکٹ کی اصطلاح بنی ہے۔ اس سے مراد ایک ایسا عمل ہے جو خود عامل کے اوپر الٹاپڑے۔ اس اصطلاح کو اگر استعمال کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ کسی شخص کو کافر یا فاسق یا مرتد یا بت پرست کہنا ایک بومرینگ کھیل ہے۔ یہ ایک ایسا خطرناک پتھر ہے جو اگر نشانہ پر نہ لگے تو وہ خود پھینکنے والے پر آکر گرے گا۔ عباسی خلافت کے دور میں عقلی بحثوں کا ہنگامہ شروع ہوا۔ اشاعرہ اور معتزلہ اور متکلمین کے درمیان غلو کی حد تک شدید بحثیں جاری ہو گئیں۔ ہر ایک دوسرے کے خلاف سخت ترین الفاظ بولنے لگا۔ مثلاً اہل نقل نے اہل عقل کے خلاف فتویٰ دیا کہ من منطق فقد تزندق (جس نے علم منطق سیکھا وہ زندیق ہو گیا) دوسری طرف اہل عقل (معتزلہ) نے یہ کہنا شروع کیا کہ جو شخص قرآن کو قدیم مانے وہ کافر ہے۔ تکفیر و تفسیق کا یہ ہنگامہ کئی سو سال تک جاری رہا یہاں تک کہ علما کے درمیان عقائد کا یہ مسئلہ مسلمہ طور پر مان لیا گیا کہ : لا نکفر احداً من اهل القبلة (اہل قبلہ میں سے کسی کو ہم کافر نہیں کہتے) یعنی جو شخص قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا ہو اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader