Urdu book · مطالعۂ حدیث

اخلاق

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کسی بھی حال میں اس کی تکفیر نہ کرو کیونکہ ایسا کوئی مسلمان نہ کبھی ہوا اور نہ کبھی ہو سکتا جو کعبہ کے بجائے کاشی یا ویلن کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی کو کافریا مرتد یا بت پرست کہنا سرے سے کوئی دینی کام ہی نہیں۔ اسلام میں عمل کی بنیاد نیت پر رکھی گئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کافریا مرتد یا بت پرست وہ آدمی ہے جو اپنی نیت کے اعتبار سے اس قسم کا برا فعل کرے، اور نیت کا علم چونکہ صرف خدا کو ہے اس لئے کسی اور کا یہ کام ہی نہیں کہ وہ دوسروں پر اس قسم کا الزامی ٹھیپہ لگانا شروع کر دے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا الزامی ٹھیپہ لگانا سادہ طور پر صرف ایک گناہ نہیں ہے، بلکہ وہ بدترین قسم کی سرکشی ہے۔ وہ خدا کے قلم کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش ہے۔ جو آدمی ایسی کوشش کرے وہ خدا کے قلم کو حاصل کرنے میں تو کامیاب نہیں ہوگا، البتہ وہ خدا کے یہاں سرکشی کا مجرم قرار پائے گا اور جو سزا وہ دوسرے شخص کو دینا چاہتا تھا، اس کو وہ خود زیادہ بری شکل میں بھگتنے پر مجبور ہو جائے گا۔ مومن کا کام تکفیر نہیں ہے بلکہ تبلیغ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو نظر آئے کہ فلاں شخص کے اندر ایک برائی پیدا ہوگئی ہے تو آپ اس سے ملیں اور خیر خواہی اور نصیحت کے انداز میں اس کو سمجھائیں۔ اس کی اصلاح کے لئے خدا سے دعا کریں۔ حتی کہ اگر وہ آپ کے کہنے پر اصلاح قبول نہ کرے تب بھی آپ کے لئے جائز نہیں کہ آپ اس کے خلاف تکفیر کا فتویٰ جاری کریں۔ مومن کا کام صرف نصیحت کرنا ہے۔ اس کے بعد بقیہ معاملات کا تعلق خدا سے ہے وہی جس کو چاہے گا سزا دے گا اور جس کو چاہے گا بخشش سے سرفراز کرے گا۔ تکفیر و تفسیق کا ہنگامہ صرف وہی شخص جاری کر سکتا ہے جس کا سینہ خدا کے خوف سے خالی ہو۔ جو آدمی خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو اس کا طریقہ ہمیشہ احتساب خویش کا ہوتا ہے نہ کہ احتساب غیر کا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page