Urdu book · مطالعہ قرآن

تفسیر قرآن

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں وہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لئے جانچ لیا ہے۔ ان کے لئے معافی ہے اور بڑا ثواب ہے۔ جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر سمجھ نہیں رکھتے۔ اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم خود ان کے پاس نکل کر آجا تو یہ ان کے لئے بہتر ہوتا۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (الحجرات ۲-۵) قرآن کی ان آیتوں کو جو آدمی سادہ طور پر محض الفاظ کی سطح پر پڑھے گا وہ اس کے ظاہری مفہوم کو لے کر اس سے صرف ذاتی تقدس کا مسئلہ نکالے گا۔ وہ سمجھے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بہت زیادہ مقدس تھی اس لئے جو لوگ آپ کی مجلسوں میں بیٹھتے تھے ان کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ تقدس اور احترام کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ کے پاس بیٹھیں ۔ ایسا آدمی صرف قدیم مدینہ کے کچھ لوگوں کو اس کا مخاطب سمجھے گا۔ خود اپنی ذات کے لئے یا دوسروں کے لئے اس کے نزدیک اس میں کوئی ہدایت نہ ہوگی۔ اس کے برعکس جو آدمی حکم کی معنویت پر غور کرے گا اور زیادہ گہرے مفہوم تک پہنچنے کی کوشش کرے گا وہ ان آیتوں میں ایک عمومی اور ابدی مسئلہ دریافت کرلے گا۔ وہ سمجھے گا کہ زمانۂ رسالت میں اگر اس کا تعلق ذاتِ رسول سے تھا تو اب اس کا تعلق پیغامِ رسول سے ہو گیا ہے۔ جس طرح پیغمبر اسلام کی زندگی میں آپ کی آواز پر آواز بلند کرنا جائز نہیں تھا۔ اسی طرح آج یہ جائز نہیں ہے کہ کوئی آدمی پیغمبر اسلام کی دی ہوئی تعلیمات کے خلاف غیر ضروری بحثیں نکالے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کا مظاہرہ کرے۔ ایسے آدمی کو آیتوں کا پورا مطالعہ بتائے گا کہ ان آیات میں جس حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کی ایک روش وہ ہے جو ایمان اور تقویٰ اور صبر کے مطابق ہے۔ اور دوسری روش وہ ہے جو نفاق اور بے خوفی اور بے صبری کی علامت ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ ہر لمحہ اپنا احتساب کرے۔ وہ اپنے اندر ایمان والی صفات پیدا کرنے کی کوشش کرے اور نفاق والی صفتوں سے اپنے آپ کو آخری حد تک بچائے۔ اس معاملہ کی ایک اور مثال لیجئے ۔ قرآن کی سورہ نمبر ۱۲ میں حضرت یوسف علیہ السلام کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page