Urdu book · مطالعہ قرآن

تفسیر قرآن

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

مطلع عربی زبان میں دیکھنے یا جھانکنے کی جگہ کو کہتے ہیں اگر آپ زمین پر کھڑے ہو کر آس پاس کی چیزوں کو دیکھ رہے ہوں تو آپ کی حدِ نظر کم ہوگی اور آپ بہت تھوڑی چیزوں کو دیکھ پائیں گے۔ لیکن اگر آپ ایک ملٹی اسٹوری بلڈنگ کی بالائی چھت پر کھڑے ہوں تو بلند مطلع کی وجہ سے آپ کی حدِ نظر بہت بڑھ جائے گی۔ اور آپ زیادہ دور تک کی چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے۔ اس حدیث میں مطلع کے فرق کی مثال سے بتایا گیا ہے کہ قرآن کو اس کے ظاہری الفاظ کے اعتبار سے پڑھنے میں اور اس کے معنی پر غور کر کے پڑھنے میں کیا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ جو آدمی صرف ظاہری الفاظ کے دائرے میں قرآن کو پڑھ رہا ہو وہ گویا نیچے کے مطلع سے قرآن کے مضامین کو دیکھ رہا ہے۔ ایسا آدمی قرآن کے صرف سادہ مفہوم تک پہنچ سکے گا۔ اس کے برعکس جو آدمی معانی پر غور کرتے ہوئے قرآن کو پڑھے وہ گویا بلند مطلع سے قرآن کے مضامین کو دیکھ رہا ہے۔ یہ دوسرا آدمی قرآن کی گہرائیوں تک پہنچ جائے گا۔ قرآن کے مطالعہ کی ان دو مختلف قسموں کو علمی زبان میں اس طرح بھی بین کیا جا سکتا ہے کہ ان میں سے ایک قرآن کی سطور (lines) کا مطالعہ ہے اور دوسرا قرآن کے بین السطور (between the lines) کا مطالعہ۔ مطالعہ کی ان دونوں قسموں میں جو فرق ہے اس کو اہلِ علم بخوبی طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ قرآن کے سطور کو پڑھنا اور قرآن کے بین السطور کا مطالعہ کرنا، دونوں میں جو فرق ہے اس کو یہاں مثال کے ذریعہ واضح کیا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تھے تو وہاں ایسا ہوا کہ آپ کی مجلس میں بعض لوگ زور زور سے بولنے لگے۔ یہ اسلامی آداب کے خلاف تھا۔ چنانچہ قرآن میں اس کی ممانعت کے لئے یہ آیت اتری: اے ایمان والو، تم اپنی آوازوں کو پیغمبر کی آواز سے اوپر مت کرو اور نہ اس کو اس طرح آواز دے کر پکارو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال حبط (برباد) ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔ جو لوگ اللہ کے رسول کے آگے اپنی آوازیں پست رکھتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page