Urdu book · مطالعہ قرآن

تفسیر قرآن

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک اور تفسیر تک پہنچ جائے گا جو پیغمبر کی شان کے عین مطابق ہے۔ ایسا آدمی جب قرآن کی ان آیتوں پر غور کرے گا تو اس کا ذہن ایک مقام پر پہنچ کر رک جائے گا۔ وہ دیکھے گا کہ شاہی دربار کے کارکن جو چیز تلاش کر رہے تھے وہ صواع (یوسف ۷۲) تھا جو عربی قاعدے کے مطابق مذکر ہے اور اس کے لئے ضمیر مذکر (ہ) آنا چاہئے۔ لیکن شاہی دربار کے کارکن اونٹوں کے سامان کی تلاشی لیتے ہیں تو سامان میں جو چیز ان کو ملتی ہے اس ملی ہوئی چیز کے لئے قرآن میں مونث کی ضمیر (ھا) استعمال ہوئی ہے (۷۲) اب غور کرنے والا آدمی جب ضمیر کے اس فرق کو دیکھے گا تو وہ پائے گا کہ معاملہ کی اصل تصویر اس سے بالکل مختلف ہے جو ظاہری الفاظ میں دکھائی دیتی تھی۔ اس سراغ کی روشنی میں جب وہ مزید غور کرے گا تو اس پر منکشف ہوگا کہ معاملہ کی اصل تصویر یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے چھوٹے بھائی کو پہچان کر اپنا پانی پینے کا پیالہ (سقایہ) اس کے سامان میں رکھ دیا۔ سقایہ کا لفظ عربی قاعدے کے مطابق مؤنث ہے۔ دربار میں ناپ کے لئے ایک شاہی پیمانہ (صواع) تھا جو غالباً چاندی کا تھا۔ عربی قاعدے کے مطابق صواع کا لفظ مذکر ہے۔ اتفاق سے یہ صواع غلہ کے ڈھیر میں دب کر کہیں چھپ گیا۔ یعنی وہی واقعہ ہوا جس کو انگریزی میں مس پلیس (misplace) ہونا کہتے ہیں۔ قافلے کے جانے کے بعد جب دربار کے کارکنوں نے صواع کو نہیں دیکھا تو ان کو قافلہ والوں پر شبہ ہوا جو ابھی دربار سے نکلے تھے۔ چنانچہ انھوں نے قافلہ والوں کو روک کر ان کے سامان کی تلاشی لی۔ اس تلاشی میں صواع تو ان کے سامان سے بر آمد نہیں ہوا البتہ سقایہ (پینے کا پیمانہ) بر آمد ہو گیا۔ یہ بات اس طرح سے معلوم ہوتی ہے کہ تلاشی کے دوران جو چیز بر آمد ہوئی اس کے لئے قرآن میں مونث کی ضمیر (ھا) آئی ہے۔ حالانکہ اگر صواع بر آمد ہو تا تو اس کے لئے قرآن میں مذکر کی ضمیر (ہ) آنی چاہئے۔ یہ سقایہ حضرت یوسف کے چھوٹے بھائی بن یامین کے سامان سے نکلا تھا کیوں کہ برادرانہ محبت کے تحت حضرت یوسف نے اس کو اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا تھا ۔ اب یہ ہوا کہ دربار کے کارکنوں نے جب بن یامین کے سامان سے سقایہ نکالا تو انہوں نے بھائیوں سے کہا کہ تم نے اگر چہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page