مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
صواع کی چوری تو نہیں ہے، لیکن تم نے ہمارے دربار کے ایک اور سامانِ سقایہ کو چرایا ہے اس لئے خود تمہارے قانون کے مطابق ہم تمہارے بھائی کو روک لیں گے اور اس کو تمہارے ساتھ جانے نہیں دیں گے۔ اس کے بعد وہ بن یامین کو اپنے ساتھ لائے اور ان کو حضرت یوسف کے حوالے کر دیا۔ قرآن فہمی کے لئے بہت سے علوم ضروری ہیں جن کا ذکر اہل تفسیر نے کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ قرآن کے مطالعہ کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے فنی مطالعہ، اور دوسرا مطالعہ وہ ہے جو قرآن سے نصیحت لینے کے لئے کیا جائے۔ جہاں تک قرآن کے فنی مطالعہ کا تعلق ہے، اس کے سلسلہ میں، بہت سے علوم کی ضرورت ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ ان علوم سے بھی زیادہ جن کا ذکر اہل تفسیر نے کیا ہے۔ اگر اس حدیث کو سامنے رکھا جائے: لا تنقضی عجائبه (قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے) تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ان علوم کی فہرست ہر دور میں بڑھتی رہے گی اور وہ کبھی ختم نہ ہوگی۔ مگر جہاں تک نصیحت کے مقصد سے قرآن کے مطالعہ کا تعلق ہے اس کے لئے عربی زبان سے واقفیت کے بعد سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ تقویٰ اور خشیت ہے۔ اس کی تصدیق خود قرآن سے ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اتقوا الله ويعلمكم الله۔ حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ خود علومِ ربانی کا ایک عظیم سرچشمہ ہے۔ اگر آدمی کے اندر گہرا تقویٰ موجود ہو تو قرآن کے معانی کو سمجھنے میں وہ اپنے آپ آدمی کے لئے مکمل رہنما بن جائے گا۔ تقویٰ آدمی کے اندر سنجیدگی پیدا کرتا ہے۔ ایسا آدمی رائے قائم کرنے میں بے حد محتاط ہو جاتا ہے۔ وہ حقیقتوں کو اللہ کی نظر سے دیکھنے کا حریص بن جاتا ہے نہ کہ محض اپنی نظر سے۔ وہ رائے قائم کرنے سے پہلے مطالعہ اور فکر کی تمام ممکن شرطوں کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ یہ چیزیں آدمی کو اس قابل بنا دیتی ہیں کہ وہ صراطِ مستقیم سے بھٹکے بغیر قرآن کے معانی کا ادراک کر سکے۔ اسبابِ نزول کی روایات قرآنی آیتوں کے سلسلہ میں اسبابِ نزول کی جو روایات ہیں وہ قرآن فہمی کے معاملہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader