Urdu book · مطالعہ قرآن

حاكم کے فرائض

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کی مزید سرکشی یہ ہے کہ وہ اپنی نجات کو خدا کے سوا دوسری چیزوں کی طرف منسوب کرنے لگتا ہے۔ کچھ لوگ اس کو اسباب کا کرشمہ بتاتے ہیں اور کچھ لوگ فرضی معبودوں کا کرشمہ۔ آدمی اگر غلطی کر کے خاموش رہے تو یہ صرف ایک شخص کی گمراہی ہے۔ مگر جب وہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کے لئے اس کی جھوٹی توجیہہ کرنے لگے تو وہ خود گمراہ ہونے کے ساتھ دوسروں کو گمراہ کرنے والا بھی بنا۔ ایک انسان وہ ہے جس کو صرف مادی غم بے قرار کرے۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کو خدا کی یاد بے قرار کر دیتی ہو، یہی دوسرا انسان در اصل خدا والا انسان ہے۔ اس کا اقرار خدا حالات کی پیداوار نہیں ہوتا، وہ اس کی شعوری دریافت ہوتا ہے۔ وہ خدا کو ایک ایسی برتر ہستی کی حیثیت سے مانتا ہے کہ اس کی امیدیں اور اس کے اندیشے سب ایک ایک خدا کی ذات کے ساتھ وابستہ ہو ہا ہے نہ اس کی بیدای روح میں سب ایک مدام کیا جاتا ہے، اور بیج جاتے ہیں۔ اس کی بے قراریاں رات کے لمحات میں بھی اس کو بستر سے جدا کر دیتی ہیں۔ اس کی تنہائی غفلت کی تنہائی نہیں ہوتی بلکہ خدا کی یاد کی تنہائی بن جاتی ہے۔ علم والا وہ ہے جس کی نفسیات میں خدا کی یاد سے ہلچل پیدا ہوتی ہو۔ اور بے علم والا وہ ہے جس کی نفسیات کو صرف مادی حالات بیدار کریں۔ وہ مادی جھٹکوں سے جاگے اور اس کے بعد دوبارہ غفلت کی نیند سو جائے۔ 39-138 آزمائش کا پرچہ اور جو لوگ شیطان سے بچے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور وہ اللہ کی طرف رجوع ہوئے۔ ان کے لئے خوش خبری ہے۔ تم میرے بندوں کو خوش خبری دے دو جو بات کو غور سے سنتے ہیں۔ پھر اس کے بہتر کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں (الزمر ۱۷۔۱۸) موجودہ دنیا فتنہ کی دنیا ہے۔ یہاں حقیقتیں اپنی آخری بے نقاب شکل میں ظاہر نہیں ہوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page