Urdu book · مطالعہ قرآن

حاكم کے فرائض

Urdu book, p. 174

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر بات کو غلط معنی پہنایا جا سکتا ہے۔ شیطان اسی امکان کو استعمال کر کے لوگوں کو راہ راست سے بھٹکاتا ہے۔ جب بھی کوئی حق سامنے آتا ہے تو شیطان اس کو غلط معنی پہنا کر لوگوں کے ذہن کو پھیرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ قول کے احسن پہلو سے ہٹا کر قول کے غیر احسن پہلو کو لوگوں کے سامنے لاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا اصل امتحان ہے۔ آدمی کو اس عقل کا ثبوت دینا ہے کہ وہ صحیح اور غلط کے درمیان تمیز کرے۔ وہ شیطانی فریب کا پردہ پھاڑ کر حقیقت کو دیکھ سکے۔ جو لوگ اس بصیرت کا ثبوت دیں وہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو خدائی سچائی کو پا سکیں گے اور جو لوگ اس بصیرت کا ثبوت دینے میں ناکام رہیں، ان کے لئے اس دنیا میں اس کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں کہ وہ قول کے غیر احسن پہلوؤں میں الجھے رہیں اور خدا کے یہاں شیطان کے پرستار کی حیثیت سے اٹھائے جائیں۔ خوش خبری قرآن میں پیغمبر اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: کہو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ اور تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرماں بردار بن جاؤ۔ اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے۔ پھر تمہاری کوئی مدد نہ کی جائے گی۔(الزمر ۵۳-۵۴) جن لوگوں کے سینے میں حساس دل ہے ان کو جب خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو ان کو یہ خیال ستانے لگتا ہے کہ اب تک ان سے جو گناہ ہوئے ہیں ان کا معاملہ کیا ہوگا۔ اسی طرح خدا پرستانہ زندگی اختیار کرنے کے بعد بھی آدمی سے بار بار کوتاہیاں ہوتی ہیں اور اس کی حساسیت دوبارہ اس کو ستانے لگتی ہے۔ حتی کہ یہ احساس بعض لوگوں کو مایوسی کی حد تک پہنچادیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ نے اپنی کتاب میں یہ اعلان فرمایا کہ انہیں یقین کرنا چاہئے کہ ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page