آسمانی کتابیں
Urdu book, p. 199
By Maulana Wahiduddin Khan
جس کی بدعملی اس کے لئے خوشنما بنا دی گئی ہے اور وہ اپنی خواہشات پر چل رہے ہیں۔ جنت کی مثال جس کا وعدہ ڈرنے والوں سے کیا گیا ہے، اس کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں نہریں ہیں ایسے پانی کی جس میں تغیر نہ ہو گا اور نہریں ہوں گی شہد کی جو بالکل صاف ہو گا۔ اور ان کے لئے وہاں ہر قسم کے پھل ہوں گے۔ اور ان کے رب کی طرف سے بخشش ہو گی۔ کیا یہ لوگ ان جیسے ہو سکتے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہیں گے اور ان کو کھولتا ہوا پانی پینے کے لئے دیا جائے گا، پس وہ ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ (محمد ۱۴۔ ۱۵) دلیل (بینہ) پر کھڑا ہونا اپنی زندگی کی تعمیر حقیقت واقعہ کی بنیاد پر کرنا ہے۔ اس کے بر عکس جو شخص اہواء (اپنی خواہشات) پر کھڑا ہوتا ہے وہ حقیقت واقعہ سے انحراف کرتا ہے، وہ خدا کی دنیا میں خدا کی مرضی کے خلاف اپنی دنیا بنانا چاہتا ہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں دونوں گروہ بظاہر یکساں مواقع پر ہے ہیں۔ مگر آخرت کی حقیقی دنیا میں صرف پہلا گروہ خدا کی ابدی نعمتوں میں حصہ پائے گا اور دوسرا گروہ ہمیشہ کے لئے ذلیل اور ناکام ہو کر رہ جائے گا۔ حق انتہائی واضح ہے۔ تمام دلیلیں اسی کی تائید کرتی ہیں۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ حق کو چھوڑ کر ناحق کو اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کا سبب دلیل کا اتباع نہیں ہے بلکہ خواہش کا اتباع ہے۔ لوگوں کے لئے ان کی خواہشات محبوب ہوتی ہیں۔ اپنی خواہشات کو چھوڑنا انہیں گوارا نہیں ہوتا۔ اس لئے واضح دلائل کے باوجود لوگ حق کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اور اپنی خواہشوں کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں۔ یہاں شیطان آدمی کی مدد کرتا ہے۔ وہ خوشنما توجیحات کے ذریعہ آدمی کو اس جھوٹے یقین میں مبتلا کر دیتا ہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں وہی درست ہے۔ 48-168 رسول اور اصحاب رسول قرآن میں پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ : محمد اللہ کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader