Urdu book · مطالعہ قرآن

آسمانی کتابیں

Urdu book, p. 198

By Maulana Wahiduddin Khan

نافرمانی کرتے تھے (الاحقاف ۱۹۔۲۰) ایک شخص کے سامنے حق آتا ہے اور وہ دنیوی مصلحت اور مادی مفاد کی خاطر اس کو اختیار نہیں کرتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو اہمیت دی۔ اس نے طیبات آخرت کے مقابلہ میں طیبات دنیا کو اپنے لئے پسند کر لیا۔ اسی طرح اپنی بڑائی کا احساس آدمی کے لئے بے حد لذیذ چیز ہے۔ جب ایسا ہو کہ اپنی بڑائی کا گھروندہ توڑ کر حق کو قبول کرنا ہو اور آدمی اپنی بڑائی کو بچانے کے لئے حق کو قبول نہ کرے، اس وقت بھی گویا اس نے طیبات دنیا کو ترجیح دی اور طیبات آخرت کو ناقابل لحاظ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ ایسے تمام لوگ جنہوں نے دنیا کی طیبات کی خاطر آخرت کی طیبات کو نظر انداز کیا وہ آخرت میں ذلت کے عذاب سے دوچار ہوں گے۔ جس کا عمل جس درجہ کا ہوگا اسی کے قدر وہ اپنے عمل کا انجام آخرت میں پائے گا۔ قرآن کی اس آیت میں ”طیبات“ سے مراد دولت اور اقتدار سے لے کر شہرت اور مقبولیت تک تمام وہ چیزیں ہیں جن کو انسان پسند کرتا ہے۔ اس طرح اس کا تعلق انسان کے ہر قول و عمل سے ہو جاتا ہے۔ جب بھی انسان کے سامنے ایک صورت حال ہو مگر اس میں وہ خدا کی پسندیدہ روش کو اس لیے اختیار نہ کرے کہ ایسا کرنے سے اس کا دنیا کا مفاد یا اس کی دنیوی مصلحتیں دوں گی تو یہ کہ اس نے طیبات آخرت کو نظر انداز کیا اور طیبات دنیا کو لے لیا۔ اس قسم کی روش چونکہ دنیا میں آدمی کو بظاہر کامیاب بناتی ہے اس لئے وہ سمجھتا ہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں ٹھیک کر رہا ہوں۔ لیکن موت جب اس کی نگاہ سے غفلت کا پردہ ہٹائے گی تو اچانک وہ محسوس کرے گا کہ اس نے ایک حقیر چیز کی خاطر کتنے بڑے فائدے کو کھو دیا۔ 47-167 دلیل یا جھوٹی تو جیہہ کیا وہ اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل (بینہ) پر ہے۔ وہ اس طرح ہو جائے گا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page