Urdu book · مطالعہ قرآن

آسمانی کتابیں

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بر عکس کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ رحمت وشفت اہل ایمان کی ایک مستقل اور عمومی صفت ہے جو ایک کے مقابلہ میں ظاہر ہوتی ہے، خواہ وہ اپنا ہو یا کوئی غیر۔ آپس میں مہربان ہونے کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے فرمایا کہ آپس میں مہربان ہونا نسبتاً زیادہ مشکل کام ہے۔ جو آدمی اپنوں کے ساتھ رحمت وشفت کا معاملہ کرے وہ غیروں کے ساتھ بھی ضرور رحمت وشفت کا معاملہ کرے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے لوگوں کے درمیان ہمیشہ ملنا جلنا زیادہ ہوتا ہے۔ ان سے زیادہ معاملات پیش آتے ہیں۔ لین دین کی عملی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس لئے اپنے لوگوں سے اکثر شکایت اور نزاع پیدا ہو جاتی ہے۔ گویا کہ غیروں کے مقابلہ میں شفقت کا معاملہ اگر سادہ طور پر صرف شفقت کرنے کا معاملہ ہے تو اپنوں کے مقابلہ میں شفقت کا معاملہ شکایت اور نزاع کے باوجود شفقت کا معاملہ۔ اپنوں کے مقابلہ میں رحیم ثابت ہو تازيادہ بڑی جانچ میں پورا اترتا ہے۔ اور یہ ایک فطری بات ہے کہ جو آدمی بڑی جانچ میں پورا اترے وہ چھوٹی جانچ میں بدرجہ اولیٰ پورا اترے گا۔ تم ان کو رکوع میں اور سجدہ میں دیکھو گے ــــ یہ اہل ایمان کی اس کیفیت کی تصویر ہے جو ان کے اندر خدا کی نسبت سے پیدا ہوتی ہے۔ خدا پر ایمان ان کے لئے خدا کی عظمت کی دریافت کے ہم معنی ہوتا ہے۔ یہ دریافت ان کے سینہ کو خشوع اور تواضع سے بھر دیتی ہے۔ اس کا مظاہرہ بار بار عبادت اور رکوع اور سجود کی صورت میں ہوتا رہتا ہے۔ وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں ــــ ایمان آدمی کے اندر یہ شعور پیدا کرتا ہے کہ ساری طاقتیں صرف ایک خدا کے پاس ہیں۔ وہ دینے والا ہے اور انسان اس سے پانے والا۔ یہ شعور اس کی زندگی میں اس طرح ڈھل جاتا ہے کہ وہ ہر چیز کو خدا کا فضل سمجھنے لگتا ہے۔ اس کی ہر سرگرمی خدا کی خوشنودی کی تلاش میں بدل جاتی ہے۔ ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے سجدہ کے اثر سے ــــ یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ آدمی کی اندرونی کیفیت اس کے چہرے پر نمایاں ہو جاتی ہے۔ آدمی اندر سے خوش ہے یا غمگین،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page