آسمانی کتابیں
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
دونوں حالتوں میں اس کا چہرہ اس کی داخلی حالت کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح جب ایک شخص حقیقی معنوں میں سجدہ گزار ہو، اس کا وجود ایمان کی کیفیات سے بھر گیا ہو تو اس کے چہرے پر اس کے اثرات اس طرح ظاہر ہو جائیں گے کہ دیکھنے والا اس کے ظاہر سے اس کے باطن کو پڑھ سکے۔ یہ اہل ایمان کی انفرادی خصوصیات ہیں جن کا ذکر پیشگی طور پر تو رات میں کیا گیا تھا۔ اصحاب رسول کی یہ صفت موجودہ تبدیل شدہ تورات میں قدسیوں (Saints) کے لفظ کی صورت میں پائی جاتی ہے۔ (کتاب استثناء باب ۳۳) انجیل (مرقس، باب ۴) میں اس گروہ کے اجتماعی اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس اجتماعی خصوصیت کو مذکورہ قرآنی آیت کے آخر میں کھیتی یا زرعی فصل کی تمثیل کے ذریعہ اس طرح بتایا گیا ہے کہ سچے اہل اسلام خدا کی زمین میں درخت کی طرح اگتے اور بڑھتے ہیں۔ وہ پودے سے یا ہے نہ پے اس طرح کی فضا میں اس کی پرورش اور پرداخت ہوتی ہے ، وہ پروان چڑھتا ہے آغاز کر کے ہرا بھرا باغ بن جاتے ہیں۔ اہلِ اسلام کا گروہ پودے کی صورت میں ایک ابتدائی مقام سے ابھرتا ہے۔ پھر وہ بڑھتے بڑھتے ایک طاقتور درخت بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا استحکام اس درجہ کو پہنچ جاتا ہے کہ اہل حق اس کو دیکھ کر خوش ہوں اور اہلِ باطل غیظ و حسد میں مبتلا ہو کر رہ جائیں کہ چاہنے کے باوجود اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ آیت کے آخری ٹکڑے میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ مذکورہ انفرادی اور اجتماعی صفات میں پورے اتریں ان کے لئے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو مغفرت اور اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔ یہاں مغفرت سے مراد آخرت کی کامیابی ہے اور اجر عظیم سے مراد دنیا کی کامیابی۔ آخرت کی کامیابی انہیں جنت کی صورت میں ملے گی اور دنیا کی کامیابی ملی وقار اور فکری غلبہ کی صورت میں۔ 49-169 محتاط مزاج اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچادو، پھر تم کو اپنے کئے پر پچھتانا پڑے، اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader