سیاسی اقتدار
Urdu book, p. 214
By Maulana Wahiduddin Khan
سیاسی اقتدار اور فرعون والوں کے پاس پہنچے ڈرانے والے۔ انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ایک غالب اور قوت والے کے پکڑنے کی طرح پکڑا (القمر 41۔ 42) فرعون قدیم مصر کا حکمراں تھا۔ اس کی سلطنت رقبہ کے اعتبار سے موجودہ مصر سے بہت بڑی تھی۔ وہ اپنے وقت کا ایک طاقت ور بادشاہ تھا۔ مگر حق کا انکار کرنے کے بعد وہ اللہ کی نظر میں بے قیمت ہو گیا۔ اس کے بعد وہ ایک عاجز انسان کی طرح ہلاک کر دیا گیا۔ اس دنیا میں حق کے ساتھ کھڑا ہونے والا آدمی زور آور ہے اور حق کے خلاف کھڑا ہونے والا آدمی بے زور۔ سیاسی اقتدار کسی کا حق نہیں۔ سیاسی اقتدار جس کو بھی ملتا ہے، امتحان کے لئے ملتا ہے، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔ جس فرد یا قوم کو خدا اقتدار دے، اس کو اسے امتحان کی نظر سے دیکھنا چاہئے۔ اس کی ساری توجہ اس پر ہونا چاہئے کہ وہ اس خدائی امتحان میں پورا اترے۔ سیاسی اقتدار کو عزت سمجھنا یا اس کو اپنی ذاتی عظمت قائم کرنے کے لئے استعمال کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی اپنے امتحان میں ناکام ہو گیا۔ 54-183 خدا کا فیصلہ ہم نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اندازہ سے۔ اور ہمارا حکم بس یکباری گی آجائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا۔ اور ہم ہلاک کر چکے ہیں تمہارے ساتھ والوں کو، پھر کیا کوئی ہے سوچنے والا، اور جو کچھ انہوں نے کیا سب کتابوں میں درج ہے۔ اور ہر چھوٹی اور بڑی بات لکھی ہوئی ہے۔ بے شک ڈرنے والے باغوں میں اور نہروں میں ہوں گے۔ بیٹھے سچی بیٹھک میں، قدرت والے بادشاہ کے پاس۔ (القمر ۴۹۔ ۵۵) دنیا کی ہر چیز کا ایک مقرر ضابطہ ہے۔ یہی اصول انسان کے معاملہ میں بھی ہے۔ انسان کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader