Urdu book · مطالعہ قرآن

حق سے اعراض

Urdu book, p. 213

By Maulana Wahiduddin Khan

حق سے اعراض بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اعراض کیا۔ تھوڑا سا دیا اور رک گیا۔ کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے۔ پس وہ دیکھ رہا ہے۔ (النجم ۳۳۔۳۵) بہت سے لوگ جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں۔ اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لئے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر اس قسم کی باتیں صرف ان کے جرم کو بڑھاتی ہیں۔ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔ دعوتِ حق کے مقابلہ میں اعراض کا یہ طریقہ اختیار کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ حق کی دعوت اپنی حقیقت کے اعتبار سے موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندگی ہوتی ہے اس لئے ایسی دعوت کو نظر انداز کرنا گویا خود خدا کو نظر انداز کرنا ہے۔ اس قسم کی روش بلاشبہ خدا کے یہاں قابلِ معافی نہیں۔ سبب اعلیٰ اور بے شک وہی ہنساتا ہے اور رلاتا ہے۔ اور وہی مارتا ہے اور جلاتا ہے۔ اور اسی نے دونوں قسم، نر اور مادہ کو پیدا کیا، ایک بوند سے جب کہ وہ ٹپکائی جائے۔ اور اسی کے ذمہ ہے دوسری بار اٹھانا۔ اور اسی نے دولت دی اور سر مایا دار بنایا۔ اور وہی شعرئی کا رب ہے (النجم ۴۳۔۴۹) دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہو سکتا۔ خوشی اور غم، موت و حیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العلمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لئے کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page