سیاسی اقتدار
Urdu book, p. 216
By Maulana Wahiduddin Khan
میں کسی کو حاصل نہیں۔ پھر انسان سے جو عادلانہ روش مطلوب تھی اس کا عملی نمونہ اس نے کائنات میں قائم کر دیا۔ انسان کے گردو پیش کی پوری دنیا عین اسی اصول عدل پر قائم ہے جو انسان سے اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے اور قرآن میں اسی عدل کو لفظی طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔ قرآن خدائی عدل کا لفظی اظہار ہے اور کائنات خدائی عدل کا عملی اظہار۔ بندوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے قول و عمل کو اسی ترازو سے ناپتے رہیں۔ وہ نہ لینے میں بے انصافی کریں اور نہ دینے میں۔ انسان کی فطرت اگر زندہ ہو ۔ وہ اپنی گرد و پیش کی دنیا کو کھلی آنکھ سے دیکھے اور کھلے ذہن سے سمجھے تو وہ پھیلی ہوئی دنیا میں وہ سب کچھ پالے گا جو اسے کامیاب زندگی کی تعمیر کے لئے درکار ہے۔ وہ کائنات میں جو کچھ دیکھے گا اسی کو قرآن میں پڑھے گا، اور قرآن میں جو کچھ پڑھے گا وہی ہدایت پائی ہوئی عملی زندگی کا نمونہ۔ 55-185 خدا کی نعمتیں اور زمین کو اس نے خلق کے لئے رکھ دیا۔ اس میں میوے ہیں اور کھجور ہیں جس کے اوپر غلاف ہوتا ہے۔ اور بھس والے اناج بھی ہیں اور خوشبودار پھول بھی۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ اس نے پیدا کیا انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے اور اس نے جنات کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ وہ مالک ہے دونوں مشرق کا اور دونوں مغرب کا۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ اس نے چلائے دو دریا، مل کر چلنے والے۔ دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ ان دونوں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے۔ پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ اور اسی کے ہیں جہاز، سمندر میں اونچے کھڑے ہوئے جیسے پہاڑ، پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے (الرحمن ۱۰۔۲۵)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader