Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

مطالعہ قرآن ایک آسمانی کتاب کا کسی انسان پر اترنا ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ ہے۔ قدیم عرب میں یہ غیر معمولی واقعہ ہوا۔ اللہ تعالی نے فرشتہ جبرئیل کے ذریعہ قرآن کو مکہ کے محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کے اوپر اتارا۔ قرآن کا یہ نزول تقریباً تئیس سال میں پورا ہوا۔ اس کا ابتدائی حصہ ۶۱۰ء میں مکہ میں اترا اور اس کا آخری حصہ ۶۳۲ء میں مدینہ میں نازل ہوا۔ دلائل قرآن یہ قرآن کس طرح پیغمبر اسلام پر اترا۔ اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وانہ لتنزيل رب العالمين نزل به الروح الامين علی قلبك لتكون من المنذرين، بلسان عربی مبین، وانہ لفی زبر الاولين (الشعراء ۱۹۲ - ۱۹۶) یعنی اور بے شک یہ خداوند عالم کا اتارا ہوا کلام ہے۔ اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔ تمہارے دل پر تاکہ تم ڈرانے والوں میں سے بنو۔ صاف عربی زبان میں اور اس کا ذکر اگلے لوگوں کی کتابوں میں ہے۔ نزول وحی (روح) کی مزید تفصیلات حدیث میں آئی ہیں۔ وحی کی حقیقت کے بارے میں عرب میں سوال کیا گیا تو قرآن میں اس کا جواب اس طرح دیا گیا: ویسئلونک عن الروح، قل الروح من أمر ربی و ما اوتيتم من العلم الا قليلاہ (بنی اسرائیل ۸۵) یعنی اور وہ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔ اور تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سوال کے سلسلے میں اصل مسئلہ اس کا براہ راست جواب دینے کا نہیں ہے بلکہ خود سائل کی اپنی محدودیت کا ہے۔ کیوں کہ سائل اپنی فطری محدودیت کی بنا پر اس مسئلہ کو صرف جزئی طور پر ہی سمجھ سکتا ہے، وہ کلی معنی میں اس کی نوعیت کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ یہ جواب عین سائنٹفک ہے۔ دنیا کی تمام چیزوں کے مطالعہ کے لئے سائنس میں عین یہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ خود سائنسی تحقیق نے بتایا ہے کہ انسان اپنی پیدائشی محدودیت کی بنا پر کسی علم کا کلی احاطہ نہیں کر سکتا۔ اس لئے سائنس میں جزئی واقفیت ہی کی بنیاد پر تمام نظریات قائم کئے گئے ہیں۔ یہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page