Urdu book · مطالعہ قرآن

دلائل قرآن

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنسی طریقہ وحی کے بارے میں بھی انسان کو اختیار کرنا چاہئے۔ قرآن خدا کا کلام ہے، وہ پیغمبر اسلام کا اپنا کلام نہیں۔ اس کا ایک سادہ ثبوت قرآن اور حدیث کی زبان کا فرق ہے۔ حدیث خود پیغمبر اسلام کا اپنا کلام ہے اور قرآن وہ خدائی کلام ہے جو فرشتہ کے ذریعہ پیغمبر کے اوپر اترا۔ جب دونوں کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کی زبان اور قرآن کی زبان کے درمیان واضح اور نمایاں فرق ہے۔ حدیث اپنی تمام خوبیوں کے باجود ایک ”بشر“ کی زبان معلوم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس قرآن اپنے غیر معمولی اسلوب کی بنا پر ایک برتر شاہانہ کلام دکھائی دیتا ہے۔ حدیث کی زبان اور قرآن کی زبان کا یہ فرق اتنا زیادہ نمایاں ہے کہ کوئی بھی عربی داں جو دونوں کو تقابلی طور پر پڑھے، وہ اس فرق کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ دونوں کا یہ فرق اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے نہ کہ خود رسول کا اپنا کلام۔ دوسری چیز یہ کہ قرآن کے کلام میں معنوی اعتبار سے ایسے مختلف استثنائی پہلو ہیں جو کسی بھی انسان کے کلام میں پائے نہیں جاتے۔ ان میں سے ایک پہلو یہ ہے کہ قرآن میں فلکیات، طبیعیات، حیاتیات، ارضیات، نباتات، حیوانات، اور تاریخ، وغیرہ کے بارے میں ایسے بیانات ہیں جو ڈیڑھ ہزار سال پہلے کسی بھی انسان کو معلوم نہ تھے جب کہ قرآن نازل ہوا۔ یہ حقائق پہلی بار صرف انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں انسان کے علم میں آئے۔ ان حوالوں کا استثنائی طور پر قرآن میں موجود ہونا اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ قرآن خداوند عالم الغیب کا کلام ہے۔ کوئی انسان اس قسم کی پیشگی اطلاع پر قادر نہیں ہو سکتا۔ اس نوعیت کی بہت سی مثالیں راقم الحروف نے اپنی کتابوں میں درج کی ہیں۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو، عظمتِ قرآن، مذہب اور جدید چیلنج کا متعلق حصہ۔ اپنی تفسیر تذکیر القرآن میں بھی بعض آیات کی تشریح کے تحت راقم الحروف نے اس طرح کے کچھ حوالے شامل کئے ہیں۔ فرانس کے ڈاکٹر مورس بکائی (Maurice Bucaille) نے خاص اسی موضوع پر ایک کتاب فرانسیسی زبان میں لکھی ہے۔ اس کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہوا ہے۔ عربی ترجمہ کا نام یہ ہے: القرآن الكريم والتوراة والانجيل والعلم (صفحات ۲۹۰) انگریزی ترجمہ کا ٹائٹل یہ ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page