Urdu book · مطالعہ سیرت

دورِ حاضر کے لئے پیغمبرانہ رہنمائی

Urdu book, p. 206

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی فطری فرق لوگوں کے درجات میں فرق پیدا کرتا ہے۔ اس فرق کا سر ان خارجی اسباب (external factors) کے ہاتھ میں ہے جہاں تک انسان کی رسائی نہیں۔ پھر کون ہے جو اس فرق کو مٹا سکے۔ اشتراکی مفکرین کی سوچ یہ ہے کہ تمام ذرائع پیداوار کو حکومت کے قبضہ میں دے دیا جائے اور حکومت طاقت کو استعمال کر کے سب کے درمیان برابری قائم کردے۔ مگر جب اشتراکی نظام میں اس کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس مصنوعی کوشش میں ایک اور زیادہ بڑی چیز قتل ہو گئی ہے، اور وہ ہے محرک عمل۔ اشتراکی نظام میں کوئی شخص مالک نہ رہا بلکہ تمام لوگوں کی حیثیت تنخواہ دار سرکاری ملازم جیسی ہو گئی۔ اس کے نتیجہ میں وہی چیز حذف ہوگئی جو ترقیاتی عمل کا سب سے بڑا محرک ہے۔ یعنی ذاتی انٹرسٹ۔ یہی وجہ ہے کہ اشتراکی سماج میں ترقیاتی عمل خطرناک حد تک رک گیا۔ یہاں تک کہ وہ کمزور ہو کر ڈھہ پڑا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان فرق کوئی برائی نہیں ہے، وہ ایک عظیم نعمت ہے۔ دراصل یہی فرق ہے جس کی بنا پر ایک آزاد انسانی سماج میں مسلسل طور پر ایک کو دوسرے سے چیلنج اور مقابلہ پیش آتا رہتا ہے۔ یہ چیلنج اور مقابلہ لوگوں کو دائمی طور پر متحرک رکھتا ہے۔ جس سماج سے فرق و تفاوت کو ختم کر دیا جائے وہاں چیلنج بھی ختم ہو جائے گا۔ اور جہاں چیلنج نہ رہے وہاں بقیہ تمام چیزیں اپنے آپ غیر موجود ہو جائیں گی۔ اسی طرح ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا کے خالق نے اس کو آزمائش کی مصلحت کے تحت بنایا ہے۔ مفکرین عام طور پر اس مصلحت کو نظرانداز کر کے زندگی کا نقشہ بنانا چاہتے ہیں۔ مگر وہ ابھی تک اس کا فکری نقشہ بھی نہ بنا سکے، عملی نظام کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page