Urdu book · مطالعہ سیرت

آغاز کلام

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

آغاز کلام سیرت نگاری کے دو طریقے ہیں۔ مقلدانہ اور مجتہدانہ۔ سیکڑوں سال سے سیرت نگاری کا جو اسلوب ہمارے یہاں چلا آ رہا ہے وہ زیادہ تر مقلدانہ اسلوب ہے۔ اس کے مقابلہ میں مجتہدانہ اسلوب وہ ہے جو عصرِ حاضر کے اسلوب کے مطابق ہو۔ یعنی وہ اسلوب جو آج کے انسان کے لئے پیغمبر اسلام کے نمونہ کو قابلِ فہم بنائے، جو آج کے انسان کو اپنے زمانہ کی چیز دکھائی دینے لگے۔ جہاں تک میرا علم ہے، پریس کا دور آنے کے بعد مختلف زبانوں میں سیرت پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں وہ تقریباً سب کی سب مقلدانہ اسلوب میں لکھی گئی ہیں۔ اگر بظاہر کوئی کتاب قدیم اسلوب سے ہٹی ہوئی نظر آتی ہے تو یہ فرق بھی محض ظاہری ہے۔ اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ کتابیں بھی مقلدانہ ہی ہیں۔ اگرچہ ظاہر پسند لوگ اپنی خوش فہمی کی بنا پر ان کو مجتہدانہ سمجھ لیتے ہیں۔ مقلدانہ اسلوب کیا ہے، اس کو بتانے کے لئے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ آپ سیرت کے موضوع پر لکھی ہوئی کسی بھی کتاب کو دیکھئے وہ آپ کے لئے مقلدانہ اسلوب کا ایک تعارف ہو گی۔ مجتہدانہ اسلوب سے مراد یہ ہے کہ سیرت نبوی کو از سر نو جدید اصطلاحوں میں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ آج کا انسان جن اصطلاحوں میں سوچتا ہے، ان اصطلاحوں میں از سرِ سیرت نبوی کی تعیین و توضیح کی جائے۔ قدیم زمانہ میں سیرت کے عنوان سے جو کتابیں لکھی گئیں ۔ مثلاً سیرت ابن ہشام،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page