آغاز کلام
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
ان میں اضافے کی یقینی ضرورت ہے۔ مگر اضافہ اس قسم کا نہیں جو بعد کے دور میں کیا گیا۔ اصل یہ ہے کہ سیرت کی ابتدائی کتابوں میں سیرت کے کچھ اجزا آئے ہیں، اس کے بہت سے اجزا اُن کتابوں میں شامل نہیں ہو سکے۔ یہ اجزا اب بھی حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ وہ اجزا مختلف عنوانات کے تحت حدیث کی کتابوں میں بکھرے ہوئے ملتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ حدیث کی کتابوں کا اس نقطہ نظر سے مطالعہ کر کے سیرت کے اجزا کو ان سے نکالا جائے اور ان کو سیرت کی کتابوں میں شامل کیا جائے۔ مگر یہ کام انجام نہ پاسکا۔ سیرت کے یہ قیمتی اجزا اہم حدیث کی کتابوں میں متفرق طور پر دیکھتے ہیں۔ مگر سیرت کے عنوان کے تحت وہ ہمارے سامنے نہیں آتے۔ اس لئے عام قاری ان اجزا کو اسوۂ نبوی کے طور پر اخذ نہیں کر پاتار۔ قاری کے اوپر ان کا دہ تاثر نہیں ہو تا جو کہ بطور واقعہ ہونا چاہئے۔ دورِ اول میں سیرت کی کتابیں صرف سیرت نبوی پر مشتمل ہوتی تھیں۔ مثلا ابن اسحاق کی سیرت جواب سیرت ابن ہشام کی شکل میں اسلامی کتب خانہ میں موجود ہے۔ بعد کے سیرت نگاروں نے اس میں تو سیع کی ۔ وہ سیرت کے موضوع میں بہت سی دوسری چیزیں شامل کرنے لگے۔ مثلاً ابن قیم کی کتاب زاد المعاد میں فقہی مسائل، حسین ہیکل کی کتاب حیاۃ محمد میں مستشرقین کے جوابات، وغیرہ۔ اس رجحان کو مولانا سید سلیمان ندوی نے آخری حد پر پہنچادیا جب کہ انھوں نے سیرت کو اسلام کا انسائیکلوپیڈیا بنانے کی کوشش کی۔ اس قسم کی تو سیع مصنف کے علمی کمال کا اظہار ہو سکتی ہے مگر وہ سیرت کے مطالعہ کا کوئی مطلوب طریقہ نہیں۔ سیرت نبوی کا اصل مقصد، قرآن کے مطابق ”اسوہ نبوی“ کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader