حکمتِ نبوی
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
حکمتِ نبوی پیغمبر اسلام ﷺ کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ آپ صاحبِ حکمت تھے اور لوگوں کو حکیمانہ روش اختیار کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔ اس سلسلہ میں آپ کے بہت سے اقوالِ حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ نے فرمایا: لاحسد الا فی اثنتین رجل آتاه الله مالا فسلطه على هلكته فى الحق، واخر آتاه الله حكمة فهو يقضى بها ويعلمها ( فتح الباری ، بشرح صحیح البخاری ۱۲۸/۱۳ ) یعنی حسد نہیں سواد و قسم کے آدمیوں پر۔ ایک وہ آدمی جس کو اللہ نے مال دیا تو وہ اس کو حق کے راستہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔ اور دوسرا آدمی وہ جس کو اللہ نے حکمت دی تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور کہا کہ اے اللہ اس کو حکمت عطا فرما (ضممنی النبی ﷺ الى صدره وقال اللهم علمه الحكمة) فتح الباری ۱۲۶/۷ اسی طرح اور بہت سی روایتیں ہیں جن سے حکمت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نعم المجلس مجلس ينشر فيه الحكمة (الدارمی مقدمه) یعنی کیا ہی اچھی ہے وہ مجلس جس میں حکمت کی بات کی جائے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ ليس هدية افضل من كلمة حكمة ( الدارمی ، مقدمه ) یعنی حکمت کی بات سے زیادہ افضل کوئی تحفہ نہیں۔ حکمت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کی بابت یہ تعلیم دی گئی کہ دوسری قوموں میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader