پیغمبر اسلام کی شخصیت
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
(اے اللہ ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا اور اس کی پیروی کی توفیق دے اور اے اللہ ہمیں باطل کو باطل کے روپ میں دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق دے۔ اور اے اللہ ہمیں چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں) موجودہ دنیا میں حقیقتوں کے اوپر اشتباہ کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ جو شخص صرف چیزوں کے ظاہر کو جانے وہ ان کو ان کی حقیقت کے اعتبار سے سمجھ نہیں سکتا۔ پیغمبر کو یہ احساس تڑپاتا ہے۔ وہ بیتابانہ اللہ کو پکار کر یہ کہنے لگتا ہے کہ اے اللہ مجھ کو حقیقت بینی کی نعمت عطا فرما، تاکہ میں چیزوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھوں، میں ہر چیز کے بارے میں وہی درست رائے قائم کروں جو حقیقت واقعہ کے اعتبار سے ہونا چاہیے۔ صحیح فکر کے بغیر سچی معرفت حاصل نہیں ہوتی۔ اسی طرح صحیح فکر کے بغیر صحیح عمل کا ظہور ممکن نہیں، یہی احساس تھا جو شدت اختیار کر کے مذکورہ قسم کی دعا میں ڈھل گیا تھا۔ یہ دعا ایک مومنانہ قلب کی تصویر ہے جو پیغمبر کے سینے میں اعلیٰ ترین درجہ میں موجود ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader