حکمتِ نبوی
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
کل صبح جو آدمی سب سے پہلے کعبہ میں داخل ہو، وہی اس مسئلہ کا فیصلہ کرے اور تمام لوگ اس کے فیصلہ کو مان لیں۔ اگلی صبح کو جب لوگ دوبارہ کعبہ میں آئے تو انھوں نے دیکھا کہ کعبہ میں داخل ہونے والے سب سے پہلے شخص رسول اللہ ﷺ ہیں ۔ ہر ایک نے بیک زبان کہا: هذا الامين، رضينا هذا محمد (سیرت ابن ہشام ۲۱۴/۱) یعنی یہ محمد الامین ہیں، ہم ان کے فیصلہ پر راضی ہیں۔ رسول اللہ نے لوگوں سے کہا کہ ایک چادر لے آو۔ وہ لوگ چادر لائے تو آپ نے اس کو زمین پر پھیلایا اور حجر اسود کو اٹھا کر اس کے اوپر رکھ دیا۔ پھر آپ نے لوگوں سے کہا کہ تم سب لوگ چادر کے کناروں کو پکڑو اور اس کو اٹھا کر کعبہ کی دیوار کے پاس لے چلو۔ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپ نے حجر اسود کو چادر سے اٹھایا اور اس کو کعبہ کی دیوار میں نصب کر دیا۔ پیغمبر اسلام ﷺ کا یہ عمل ایک بہترین نمونہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی نزاعی معاملہ کو کس طرح خوش اسلوبی کے ساتھ طے کیا جا سکتا ہے۔ وہ یہ کہ حکیمانہ انداز اختیار کرتے ہوئے ہر ایک کو اس میں شریک کر لیا جائے۔ اس طرح کا معاملہ لوگوں کے لئے اکثر و قار کا سوال بن جاتا ہے۔ اگر حسن تدبیر سے لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ ان کا وقار محفوظ ہے تو مسئلہ کو حل کرنے میں کوئی دشواری نہ ہوگی۔ آغاز کار پیغمبر اسلام ﷺ کو جب مکہ میں نبوت ملی تو آپ نے اپنے عمل کا یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ آپ لوگوں کے پاس جاتے اور ان سے کہتے کہ اے لوگو، کہو کہ ایک اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، تم فلاح پاؤ گے (ایٹھا الناس قولوا لا اله الا اللہ تفلحوا) یعنی تم لوگ شرک کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader