Urdu book · مطالعہ سیرت

حکمتِ نبوی

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

چھوڑ دو اور ایک خدا کی پرستش کا طریقہ اختیار کرو، تم فلاح پاؤ گے۔ اس وقت کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ اب ایک صورت یہ تھی کہ کعبہ کو بتوں سے پاک کر کے اس کو توحید کے مرکز کے طور پر بنایا جاتا۔ مگر اس وقت وہ عملاً شرک وبت پرستی کا مرکز بن گیا تھا۔ ان حالات میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے دو مختلف راستے تھے۔ ایک یہ کہ کعبہ سے بتوں کو نکال کر وہاں دوبارہ توحید کا ماحول قائم کریں اور اس کو مرکز بنا کر اپنی موحدانہ تحریک چلائیں۔ ایک صورت قولی دعوت سے آغاز کرنے کی تھی۔ اور دوسری صورت عملی اقدام سے آغاز کرنے کی۔ جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے، آپ نے عملی اقدام سے مکمل طور پر پرہیز کیا، اور صرف قولی دعوت کے نہج پر مکہ میں اپنا پیغمبرانہ مشن جاری فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی دعوت یا اسلامی تحریک کا صحیح پیغمبرانہ طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ پہلے پرامن فکری مہم کے ذریعہ لوگوں کی سوچ اور کردار میں تبدیلی لائی جائے۔ یہ ابتدائی کام جب قابلِ لحاظ حد تک انجام پا جائے، اس کے بعد حسبِ حالات عملی اقدام کا آغاز کیا جائے۔ توہین کو برداشت کرنا مشہور سیرت نگار ابنِ اسحق بتاتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کا نام مذمم رکھا تھا۔ پھر وہ آپ کا سب وشتم کرتے تھے۔ اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں سے فرماتے کہ کیا تم کو اس پر تعجب نہیں کہ اللہ نے کس طرح مجھ کو قریش کی ایذارسانی سے بچالیا۔ وہ سب وشتم کرتے ہیں اور ایک مذمم شخص کی ہجو کرتے ہیں اور میں محمد ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page