Urdu book · مطالعہ سیرت

حکمتِ نبوی

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

الباری ۸ / ۵۲۰) یعنی اس کو چھوڑ دو۔ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس واقعہ سے پیغمبر اسلام ﷺ کا ایک خاص اسوہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ...... توہین کو برداشت کر لو۔ کیونکہ اگر تم نے توہین کو برداشت نہ کیا تو اس سے بھی زیادہ بڑی برائی سامنے آئے گی، اور وہ خدا کے دین کی بدنامی ہے۔ قبل از وقت اقدام نہیں پیغمبر اسلام ﷺ تقریباً ۱۳ سال تک مکہ میں رہے یہاں کی اکثریت آپ کی مخالف بنی رہی۔ انھوں نے ہر طرح آپ کو ستایا۔ تاہم آپ کے دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں وہاں کے تقریباً دوسو مرد اور عورت اسلام میں داخل ہو گئے۔ یہ لوگ بار بار آپ سے یہ کہتے کہ ہم ظلم کے خلاف جہاد کریں گے۔ مگر آپ ہمیشہ انھیں صبر کی تلقین کرتے رہے۔ مثلاً حضرت عمر فاروق نے قریش کے مظالم کے خلاف جہاد کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: یا عمر انا قلیل (سیرت ابن کثیر ۱ / ۴۴۱) یعنی اے عمر ہم تھوڑے ہیں۔ مکی دور کے آخر میں مدینہ کے تقریباً دوسو آدمی اسلام میں داخل ہو گئے۔ ان لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ مکہ کے لوگ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنا رہے ہیں تو انھوں نے بھی کہا کہ ہم کو ان ظالموں کے خلاف لڑنے کی اجازت دیجیے، مگر ان سے بھی آپ نے یہی فرمایا کہ صبر کرو کیوں کہ مجھے قتال کی اجازت نہیں دی گئی۔ (اصبروا فانی لم اومر بالقتال) پیغمبر اسلام ﷺ نے ہر قسم کے ظلم و زیادتی کے باوجود تقریباً ۱۵ سال تک یکطرفہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page