Urdu book · مطالعہ سیرت

حکمتِ نبوی

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

وكانت قريش انما تسمی رسول الله ﷺ مذمما ثم يسبونه فکان رسول الله ﷺ يقول: "الا تعجبون لما صرف الله عنی من اذی قريش يسبون ويهجون مذمما وانا محمد" (سيرت ابن هشام ۱/ ۳۷۹) پيغمبر اسلام ﷺ کا اصل نام محمد تھا جس کا مطلب ہے تعريف کيا ہوا۔ مکی دور ميں جب قريش کو آپ کے ساتھ عناد پيدا ہوا تو انھیں پسند نہيں آيا کہ وہ آپ کو محمد (تعريف کيا ہوا) جيسے نام سے پکاریں۔ انھوں نے اپنے جذبہ عناد کی تسکين کے لئے بطور خود آپ کا نام مذمم رکھ ديا جس کے معنی ہيں مذمت کيا ہوا۔ قريش جب آپ کو برا بھلا کہتے تو وہ آپ کے لئے محمد کا لفظ استعمال نہ کرتے بلکہ وہ مذمم کا لفظ بول کر آپ کو برا بتاتے۔ حتی کہ ابولہب کی بیوی ام جميل نے خود آپ کے سامنے آکر کہا: مذمما عصينا (صفحہ ۳۷۹) يعنی يہ مذمم ہيں اور ہم ان کو نہيں مانتے۔ يہ بلاشبہ ايک اشتعال انگيزی تھی اور آپ کی توہين بھی۔ ليکن پيغمبر اسلام نے ايک خوبصورت جواب دے کر اس کو نظر انداز کر ديا۔ آپ نے فرمايا کہ يہ لوگ مذمم کی سب و شتم کرتے ہيں۔ مگر ان کی سب و شتم میرے اوپر پڑنے والی نہيں کيوں کہ ميرا نام محمد ہے نہ کہ مذمم۔ پيغمبر اسلام ﷺ ہجرت کر کے مدينہ آئے تو یہاں عبداللہ بن ابی آپ کا شديد مخالف بن گيا۔ اس نے اگرچہ اسلام قبول کر ليا تھا مگر حسد کے جذبہ کے تحت وہ آپ کا شديد مخالف بن گيا۔ آپ کی توہين کرنا، آپ کا سب و شتم کرنا اور آپ کے خلاف بری باتيں پھيلانا اس کا سب سے بڑا مشغلہ بن گيا۔ يہ کہنا صحيح ہوگا کہ وہ سب سے بڑا شاتم رسول تھا۔ حضرت عمر فاروق نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ مجھے اجازت ديجئے کہ ميں اس کو قتل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page