Urdu book · مطالعہ سیرت

حکمتِ نبوی

Urdu book, p. 90

By Maulana Wahiduddin Khan

ہم اسلام تو قبول کر لیں گے لیکن ہم نہ زکوٰۃ دیں گے اور نہ جہاد کریں گے۔ یہ ایک نازک مسئلہ تھا۔ عام لوگ اس قسم کے اسلام کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ لیکن پیغمبر اسلام ﷺ نے حال سے اوپر اٹھ کر مستقبل کو دیکھا۔ آپ نے اپنی بصیرت کے تحت یہ سمجھا کہ یہ لوگ جب اسلام میں داخل ہو کر مسلم معاشرہ کا جز بن جائیں گے تو وہ اپنے آپ سب کچھ کرنے لگیں گے۔ چنانچہ آپ نے ان کی شرطوں کو مانتے ہوئے انھیں اسلام میں داخل کر لیا۔ لوگوں کے اشکال کو رفع کرنے کے لئے آپ نے فرمایا کہ جب وہ اسلام قبول کر لیں گے تو اس کے بعد وہ زکوٰۃ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔ (سیصدقون ویجاهدون اذا اسلموا) سیرت ابن کثیر ۵۶/۳۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے اس اسوہ سے ایک عظیم حکمت معلوم ہوتی ہے۔ یہ حکمت ایک لفظ میں مستقبل بنی ہے۔ انسان کوئی پتھر نہیں ہے جو تاثر کو قبول نہ کرے۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ انسان کے حال پر اس کے مستقبل کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ آدمی سے معاملہ کرتے ہوئے ہمیشہ اس حقیقت کو سامنے رکھنا چاہئے۔ بوقت معاملہ فوری تبدیلی پر اصرار سے ضد پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر وسعت ظرف کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اپنے آپ ایسا ہوگا کہ آدمی مستقبل میں عین وہی بن جائے گا جیسا کہ حال میں ہم اس کو دیکھنا چاہتے تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page