پیغمبرانہ پالیسی
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبرانہ پالیسی عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پیغمبر کا طریقہ عزیمت کا طریقہ ہے نہ کہ رخصت کا طریقہ۔ مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ کسی عملی روش کو اختیار کرنے کے سلسلہ میں اصل اعتبار حالات و ظروف کا کیا جاتا ہے نہ کہ کسی مطلق آئیڈیل کا۔ اسلام میں عزیمت کی اہمیت بھی اتنی ہی ہے جتنی رخصت کی۔ ان میں سے کوئی بھی ہمیشہ کے لئے افضل ہے اور نہ غیر افضل۔ اس معاملے میں ٹھیک یہی بات سیرت کے مطالعہ سے ثابت ہوتی ہے۔ قرآن میں عزیمت کا لفظ اس معنی میں نہیں آیا ہے جس معنی میں وہ عام طور پر مشہور ہے۔ قرآن میں عزیمت کا لفظ عدم اقدام پر جمنے کے لئے استعمال ہوا ہے نہ کہ پرجوش طور پر اقدام کرنے کے لئے، جیسا کہ حسب ذیل آیت سے معلوم ہوتا ہے: فاصبر كما صبر اولو العزم من الرسل ولا تستعجل لهم (الاحقاف ٣٥) پس تم صبر کرو جس طرح عزیمت والے پیغمبروں نے صبر کیا۔ اور ان کے لئے جلدی نہ کرو۔ اس آیت میں واضح طور پر صبر کے طریقے کو عزیمت کا طریقہ کہا گیا ہے۔ یعنی فریق ثانی کی اشتعال انگیزی، اس کی ضرر رسانی اور اس کی طرف سے مخالفانہ کارروائیوں کے باوجود یک طرفہ طور پر صبر کرنا اور اپنے آپ کو جوابی اقدام سے روکے رکھنا، اسی کا نام صبر ہے اور اسی صبر کو قرآن میں عزم وہمت کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ رخصت کیا ہے۔ رخصت کم ہمتی یا عمل سے فرار کا نام نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک تدبیر ہے۔ وہ عمل کے لئے زیادہ بہتر موقع حاصل کرنے کا نام ہے نہ کہ عمل کو ترک کرنے کا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader