Urdu book · مطالعۂ سیرت

دلیل نبوت

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

پڑنے والا تھا۔ چنانچہ آپ نے اپنی وفات سے تقریباً دو ماہ پہلے مکہ جا کر حج ادا فرمایا۔ اس حج میں آپ نے جو خطبہ دیا، اس میں آپ نے اعلان کر دیا اور فرمایا کہ اسے لوگو، زمانہ گھوم گیا پس آج کے دن وہ اپنی اس ہیئت پر ہے جس دن کہ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: حقیقت حج ، صفحہ ۳۲) یعنی ۳۳ سال دور کو پورا کر کے اب حج کا موسم دوبارہ ذی الحجہ کے مہینہ میں پڑ رہا ہے۔ یہی نظام مشیت خداوندی کے مطابق ہے۔ اب قریش کا جاری کردہ نظام ختم کیا جاتا ہے۔ آئندہ ہمیشہ کے لیے قمری کیلنڈر کے مطابق ، ذی الحجہ کے مہینہ میں حج ادا کیا جائے گا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ روایات کو توڑے بغیر اصلاح کرنا۔ اسی لیے آپ نے حج کی تاریخوں میں اصلاح فرمائی مگر یہ کام آپ نے روایات کو توڑے بغیر انجام دیا۔ بے بے حد حیرت انگیز بات ہے کہ آپ کی پیدائش اور آپ کی وفات انتہائی موزوں وقت میں ہوئی۔ ایک طرف مذکورہ ۳۳ سالہ دور پورا ہوا، اور دوسری طرف آپ اپنی مدت حیات پوری کر کے اس مخصوص مہینہ اور سال میں پہنچ گئے جب کہ آپ روایت شکنی کے بغیر فطری انداز میں حج کے نظام کی اصلاح کر سکیں۔ یہاں واضح طور پر آپ کی پیدائش اور آپ کی وفات کے وقت کی تعیین میں اس برتر خالق کا ہاتھ کام کرتا ہوا نظر آتا ہے جو تخلیق کے پورے نظام کو کنٹرول کر رہا ہے۔ آپ کی عمر اور خارجی زمانہ میں اگر یہ مطابقت نہ ہوتی تو آپ اتنی صحت کے ساتھ اپنے مشن کو پورا نہیں کر سکتے تھے یہ واقعہ بھی اللہ (علم حيث يجعل رسالته کی ایک ایمان افروز مثال ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن میں یہ بھی تھا کہ آپ حج کی سالانہ عبادت میں اس طرح اصلاح کریں کہ وہ شمسی کیلنڈر سے ہٹ کر قمری کیلنڈر پر آ جائے۔ اور اس عمل کے درمیان روایات کو بھی توڑنا نہ پڑے۔ یہ ایک ایسا کام تھا جو محدود عمر کے ایک انسان کی استطاعت سے باہر تھا۔ اس انقلابی تبدیلی کو قائم کرنے کے لیے ضروری تھا کہ مصلح کی پیدائش بالکل حسابی انداز میں ایسے زمانہ میں ہو جب کہ کائنات کا آفاقی نظام بھی اس کی مدت حیات کے ساتھ مساعدت کر رہا ہو۔ صرف خداوند عالم ہی اس پر قادر ہو سکتا تھا۔ اور پیغمبر اسلام کی زندگی میں ان آفاقی اسباب کا جمع ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ خداوند عالم کے فرستادہ تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page