Urdu book · مطالعۂ سیرت

دلیل نبوت

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

۶۔ دنیا کے تمام انقلابات، خالص نظریاتی اعتبار سے، ناکام انقلابات ہیں۔ کیوں کہ کوئی بھی انقلاب اپنے نظریاتی معیار و الانظام نہ بنا سکا ۔ تمام انقلابات صرف ارباب حکومت کی تبدیلی کے ہم معنی ہیں۔ ان کا آغاز خوش نما نظریات کی تبلیغ سے ہوا۔ مگر جب عملی انقلاب کی نوبت آئی تو ان کا نتیجہ اس کے سوا کچھ اور نہ تھا کہ ایک گروہ کی سیاسی حکمرانی ختم ہو کر دوسرے گروہ کی سیاسی حکمرانی قائم ہوگئی۔ انقلابات کی تاریخ میں اسلامی انقلاب واحد انقلاب ہے جس میں عین اس کے نظریہ کے مطابق، ایک مثالی معاشرہ بنا اور ایک مثالی سماج قائم ہوا۔ اس فرق کا بنیادی سبب یہ ہے کہ بقیہ تمام انقلابات دوسری اور تیسری نسل میں مکمل ہوئے۔ جب کہ اسلامی انقلاب اپنی پہلی ہی نسل میں عملی تکمیل کے مرحلہ تک پہنچ گیا۔ کسی نظریاتی تحریک کی پہلی نسل ہوتی ہے اس کے افراد کے لیے وہ نظریہ ذاتی دریافت ہوتا ہے۔ ان کے اندر اس نظریہ کے حق میں کامل اخلاص موجود رہتا ہے۔ جب کہ دوسری اور تیسری نسل تک پہنچ کر نظریہ صرف ایک قسم کا رسمی عقیدہ بن کر رہ جاتا ہے۔ زندگی میں قوتِ محرکہ کے اعتبار سے وہ اپنی حیثیت کھو دیتا ہے۔ ڈیمو کریسی (جمہوریت) کا نظریہ سترھویں صدی کے کچھ یورپی مفکرین نے پیش کیا۔ مگر علیٰ صورت میں ڈیمو کریسی اٹھارویں صدی کے آخر میں قائم ہوئی ۔ ۱۷۷۶ء میں امریکہ میں اور ۱۷۸۹ء میں فرانس میں۔ اس طرح ڈیمو کریسی اپنی پہلی نسل میں صرف نظریہ کے درجہ میں باقی رہی ۔ وہ اپنی تیسری نسل میں پہنچ کر عملی واقعہ بن سکی جب کہ اس کے ابتدائی نظریہ ساز ختم ہو چکے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیمو کریسی کے نام پر آنے والے انقلابات ڈیمو کریسی کا حقیقی عملی نمونہ نہ بن سکے۔ اسی طرح کمیونزم کا نظریہ انیسویں صدی میں ابھرا۔ مگر اس کا عملی نفاذ بیسویں صدی میں کمیونسٹوں کی دوسری اور تیسری نسل میں ہوا۔ پہلی نسل سے افراد کے لیے اس کو عملی روپ دینا ممکن نہ ہو سکا۔ چنانچہ حکمرانوں کی تبدیلی کے معنی میں تو کمیونزم نافذ ہو گیا۔ مگر اس کا نظریاتی معیار کبھی اور کسی ملک میں واقعہ نہیں بنا۔ اس کے برعکس اسلام کا نظریہ پہلی ہی نسل (محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) کے زمانہ میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ اگر مثال کے طور پر ایسا ہوتا کہ عرب کی فتح بنو امیہ کی خلافت کے زمانہ میں ہوتی اور ایران و روم کی فتوحات بنو عباس کی خلافت کے زمانہ میں انجام پاتیں تو ممکن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page