دلیل نبوت
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی صلاحیت کی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ پیغمبر کی زندگی ہی میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمی آپ پر ایمان لاکر آپ کے ساتھی بن گئے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں مبعوث کرنا کوئی سادہ بات نہیں تھی۔ یہ ایک انتہائی اعلیٰ منصوبہ بندی کا معاملہ تھا۔ اس میں منصوبہ ساز کو یہ جاننا تھا کہ ساری دنیا میں وہ کون سا مخصوص مقام ہے جو پیغمبر اسلام کو اپنا کام شروع کرنے کے لیے موزوں ترین ہے ۔ نہ صرف پیغمبروں کی تاریخ بلکہ کوئی تخلیقی نظریہ پیش کرنے والے ہر آدمی کی تاریخ بتاتی ہے کہ معاصر زمانہ میں بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اس کے پیغام کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں اور اس کے زمانہ ہی میں اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔ عرب جیسی قوم میں مبعوث کرنے ہی کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ اپنی زندگی ہی میں پیغمبر اسلام کو کثیر تعداد میں ایسے ساتھی مل گئے جو مطلوبہ انقلاب کے لیے جہاد عظیم کر سکیں ۔ یہ واقعہ اتنا اہم اور اتنا زیادہ استثنائی تھا کہ بائبل میں اس کے بارہ میں پیشگی خبر دے دی گئی ۔ بائبل (کتاب استثنا) میں ہے کہ مرخد موسیٰ نے جو دعاے خیر دے کر اپنی وفات سے پہلے بنی اسرائیل کو برکت دی وہ یہ ہے کہ۔ اور اس نے کہا : خداوند سینا سے آیا۔ اور شخیر سے ان پر آشکار ہوا ۔ وہ کوہِ فاران سے جلوہ گر ہوا ۔ اور وہ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا : and he came with ten thousands of saints. (Deuteronomy 33:2) بائبل کی اس آیت میں سینا سے آنے والے حضرت موسیٰ ہیں۔ شخیر سے آنے والے حضرت مسیح ہیں اور فاران سے آنے والے سے مراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ان کے ساتھ یہ انوکھا واقعہ پیش آیا کہ وہ آغاز نبوت کے صرف ۲۰ سال بعد دس ہزار صحابہ کے ساتھ فاتحانہ طور پر مکہ میں داخل ہوئے : He received his prophetic call in about 610, and in January 630 he entered Mecca with 10,000 men. (VII/84)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader