دلیل نبوت
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا کہ اسلام کی تاریخ میں حیات انسانی کا وہ مثالی ماڈل موجود ہو جو اسلام کے پہلے دور میں بنا اور جو عام انسانوں کے لیے دائمی طور پر مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیوں کہ اگلی نسل تک پہنچتے پہنچتے اسلام کی اصل اسپرٹ لوگوں میں کافی کمزور ہو چکی تھی۔ کیا وجہ ہے کہ دوسرے انقلابات کی تکمیل کئی نسلیں گزرنے کے بعد ہوئی، مگر اسلامی انقلاب پہلی ہی نسل میں مکمل ہو گیا۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ دوسرے نظریات کو پہلی نسل میں بڑی تعداد میں مردان کار حاصل نہ ہو سکے۔ جب کہ اسلامی نظریہ کو ہی پہلی ہی نسل میں مردان کار کی ایک طاقت ور ٹیم مل گئی جس نے غیر معمولی جد و جہد اور قربانی کے ذریعہ پہلی ہی نسل میں اس کی تکمیل کے آخری مرحلہ تک پہنچا دیا۔ اوپر جو آیت ہم نے نقل کی ہے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کو کہاں رکھے (الانعام ۱۴۲) اسی کا ایک پہلو یہ تھا کہ پیغمبر کی جائے پیدائش اور مقام عمل کے لیے اس جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں اس کو پہلے ہی مرحلہ میں اعلیٰ صلاحیت کے مردان کار مل سکیں۔ ظہور محمدی کے زمانہ کو دیکھیے تو بظاہر عرب کا ملک اس مقصد کے لیے سب سے زیادہ غیر اہم نظر آتا ہے۔ اس وقت عربوں کی تصویر دنیا کی نظر میں کیا تھی، اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ فردوسی اپنے شاہ نامہ میں ان کے بارے میں لکھتا ہے کہ اے آسمان تجھ پر افسوس ہے کہ اونٹ کا دودھ پینے والے اور گوہ کا گوشت کھانے والے عربوں کا معاملہ اب یہاں تک پہنچا ہے کہ وہ ایرانی تخت کی آرزو کر رہے ہیں : ز شیر شتر خوردن و سو سما ر عرب را بجائے رسید است کار کہ تختِ کیاں را کنند آرزو تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو اس وقت صرف خدا ہی جان سکتا تھا کہ اس بظاہر غیر اہم قبائلی مجموعہ کے اندر ایک عظیم قوم بننے کے امکانات چھپے ہوئے ہیں۔ مارگولیتھ نے عربوں کو ہیروؤں کی ایک قوم (a nation of heroes) کہا ہے، مگر یہ اعتراف واقعہ کے ظہور میں آنے کے بعد کا ہے۔ ظہور واقعہ سے پہلے صرف خدا ہی جان سکتا تھا کہ عرب قوم کے اندر کیا امکانی اوصاف چھپے ہوئے ہیں۔ ان عربوں میں دوسری غیر معمولی صفات کے ساتھ ایک انوکھی صفت یہ تھی کہ وہ ہر قسم کے تعصب سے خالی تھے۔ ان کے مزاج میں یہ چیز رچی بسی ہوئی تھی کہ وہ حق کا فوراً اعتراف کر لیں۔ ان کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader