Urdu book · مطالعۂ سیرت

مطالعۂ سیرت

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

میں ایک جنگ پیش آئی جس کو غزوہ موتہ کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں چند دن کے اندر بارہ اصحاب شہید ہوگئے۔ اس کے بعد خالد بن الولید کو اسلامی لشکر کا سردار بنا دیا گیا ۔ انھوں نے اندازہ کیا تو معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی تعداد تین ہزار ہے اور رومیوں کی تعداد دو لاکھ ہے۔ یہ فرق ناقابل عبور حد تک غیر مناسب (out of proportion) تھا۔ چنانچہ خالد بن الولید نے مقابلے کے میدان سے ہٹ کر واپسی کا فیصلہ کیا۔ یہ لوگ جب واپس ہو کر مدینہ پہنچے تو مدینہ کے کچھ لوگوں نے ان کا استقبال یا فرار (اے بھاگنے والو) کہہ کر کیا۔ اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ليسوا بالفرار ولكنهم الكرار (ان شاء الله تعالیٰ) وہ بھاگنے والے نہیں ہیں بلکہ دوبارہ اقدام کرنے والے ہیں) مدینہ کے مذکورہ مسلمان در اصل ثنائی طرزِ فکر (dichotomous thinking) میں مبتلا تھے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے لیے صرف دو میں سے ایک کا آپشن (انتخاب) ہے ۔ پہلا آپشن یہ کہ دشمن سے بہادرانہ طور پر لڑا جائے ۔ اور دوسرا آپشن یہ کہ ہمت ہار کر بزدلانہ پسپائی اختیار کی جائے۔ چونکہ دوسرا آپشن غیر محمود تھا اس لیے ان کا خیال تھا کہ مسلم لشکر کو پہلے آپشن پر ہی قائم رہنا چاہیے تھا خواہ ان کا ایک ایک شخص لڑتے لڑتے اپنی جان دے دے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر رہنمائی دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ایک تیسرا آپشن بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ مقابلہ کے میدان سے ہٹ کر مزید تیاری کی جائے تاکہ آئندہ زیادہ مؤثر انداز میں اقدام کیا جاسکے۔ خالد بن الولید کی موتہ سے واپسی فرار کی طرف واپسی نہیں تھی بلکہ وہ اسی تھرڈ آپشن کی طرف واپسی تھی۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ مسلم جماعت نے تین سال بعد مزید تیاری کے ساتھ اسامہ ابن زید کی سرداری میں دوبارہ رومی سرحد کی طرف اقدام کیا اور شاندار کامیابی حاصل کی۔ میدانِ عمل کی تبدیلی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے ۔ مگر مکہ کے سردار اب بھی خاموش نہیں ہوئے ۔ انھوں نے آپ کے خلاف باقاعدہ جنگ چھڑ دی۔ کئی بار دونوں طرف کی فوجوں میں ٹکراؤ ہوا۔ مگر جنگ کے ذریعہ آخری فیصلہ نہ ہوسکا۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مکہ سے وہ معاہدہ کر لیا جو صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ در اصل دونوں فریقوں کے درمیان دس سال کا جنگ معاہدہ تھا۔ اس معاہدہ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page