Urdu book · مطالعۂ سیرت

مطالعۂ سیرت

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

ذریعہ آپ نے فریق ثانی کے ساتھ میدانِ مقابلہ کو بدل دیا۔ اب تک دونوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں پیش آرہا تھا۔ اب دونوں کا مقابلہ نظریاتی میدان میں منتقل ہوگیا۔ اس معاہدہ کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بڑے پیمانے پر ملنا جلنا شروع ہوگیا۔ اس اختلاط کے دورانِ اسلام کی نظریاتی برتری اپنے آپ ثابت ہونے لگی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوکر اسلام میں داخل ہونے لگے۔ اہل اسلام کی تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی اور فریق ثانی کی تعداد مسلسل گھٹ رہی تھی۔ یہاں تک کہ مزید جنگ کے بغیر محض عوامی طاقت سے اہل اسلام غالب آگئے۔ اس سنتِ رسول کا مطلب یہ ہے کہ حریف سے ایک میدان میں مقابلہ اگر موثر نہ ہورہا ہو تو مقابلہ کے میدان کو بدل کر اس کو اپنے موافق میدان میں لایا جائے جہاں اہل اسلام اپنی کوششوں کو زیادہ موثر بنا سکیں۔ تدریج کا اصول صحیح البخاری میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ قرآن جب اترنا شروع ہوا تو اس میں سب سے پہلے وہ آیتیں اتاری گئیں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ اس طرح (تقریباً ۱۵ سال بعد) جب لوگوں کے دل نرم ہوگئے تو اس کے بعد قرآن میں یہ حکم اترا کہ زنا چھوڑ دو اور شراب چھوڑو۔ اس کے بعد وہ کہتی ہیں کہ اگرچہ قرآن میں یہ احکام شروع ہی میں اتار دیے جاتے تو عرب کہتے کہ ہم تو کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے، ہم تو کبھی شراب نہیں چھوڑیں گے (لا ندع الزنا ابداً ولا ندع الخمر ابداً) اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی شریعت کا نفاذ ہمیشہ ترتیب و تدریج کے اصول پر کیا جاتا ہے یعنی پہلے لوگوں کے دلوں میں اس کی آمادگی پیدا کی جاتی ہے۔ اس کے بعد علی طور پر اس کا نفاذ کیا جاتا ہے۔ کوڑے اور بندوق کے زور پر کبھی شریعت کا نفاذ ممکن نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص ایک غیر تیار شدہ معاشرہ میں محض طاقت کے زور پر شریعت کے احکام کو نافذ کرنا چاہے تو یہ سنتِ رسول کے خلاف ہوگا۔ اور سنتِ رسول کی خلاف ورزی کرنے کے کوئی کامیابی اس دنیا میں ممکن نہیں۔ آئیڈیلیزم کے بجائے پر میمیٹزم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ اپنی ذات کے معاملہ میں آئیڈیلیزم کو اختیار کرنے کی کوشش کرو۔ مگر دوسروں سے معاملہ کرنے میں پر میمیٹک حل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page